خبرنامہ

مولاناارشد مدنی کے بیان سے مسلم سیاست میں بحث چھڑی

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے سرگرم رہنما مولانا ارشد مدنی نے الزام لگایا کہ آزادی کے بعد سے ملک میں ایسا ماحول بنایا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو ترقی کے بنیادی مواقع نہیں ملتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مسلمان بڑی ذمے داریاں نبھا سکتے ہیں،لندن میں کوئی خان میئر بن جاتا ہے، مغربی ممالک میں مسلمان بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں لیکن بھارت میں مسلمانوں کے لیے اسی نوعیت کے راستے محدود کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مسلمان کسی یونیورسٹی میں کلیدی عہدے پر پہنچ بھی جائے تو اس کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی جاتی ہیں، جیسا کہ کچھ معروف مسلم تعلیمی اداروں کے ذمے داران کے ساتھ ہوا۔ مولانا مدنی کا کہنا تھا کہ بعض مسلم یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں یا ذمہ داروں کو معمولی وجوہات پر جیل بھیج دیا جاتا ہے، اور ان کے مقدمات سالہا سال تک چلتے رہتے ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسلم قیادت کو دبانے کی کوشش جاری ہے۔
مولانا مدنی کے اس بیان پر بی جے پی کے رہنما محسن رضا نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدنی خاندان نے ہمیشہ مسلمانوں کو جذباتی نعروں کے ذریعے گمراہ کیا ہے۔ محسن رضا کا الزام تھا کہ اس خاندان نے برسوں تک حکومتی امداد لی، مگر اس کا فائدہ عام مسلمانوں تک پہنچانے کے بجائے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر مدنی خاندان واقعی مسلمانوں کی ترقی چاہتا تھا تو ملک میں کتنے تعلیمی ادارے ان کی کوششوں سے قائم ہوئے اور کتنوں نے واقعی مسلمانوں کی حالت بہتر کی۔دوسری طرف کانگریس کے رہنما ڈاکٹر ادیت راج نے مولانا مدنی کے مؤقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض شخصیات کے خلاف قانونی کارروائیاں درست ہو سکتی ہیں، جیسے کہ کسی فرد کے پاس جعلی دستاویزات ہوں، لیکن ایسی صورت میں پوری کمیونٹی یا کسی مکمل ادارے کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی یونیورسٹی سے منسلک کوئی شخص غلط سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا ادارہ یا پوری برادری مجرم ہے۔
ادیت راج نے مزید کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے گھروں، خاص طور پر غریب طبقے کے مکانات پر بلڈوزر کارروائیاں زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں، جس سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق یکطرفہ کارروائیوں سے نہ صرف ایک طبقہ خوفزدہ ہوتا ہے بلکہ ملک کا اجتماعی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔یہ سارا معاملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے حقوق، سیاسی بیانیہ اور تعلیمی اداروں کی خود مختاری پر بحث مزید شدید ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کی مختلف جماعتیں اس موضوع کو اپنی اپنی سیاسی سمت میں پیش کر رہی ہیں، جبکہ عام لوگوں کے درمیان بھی اس پر گفتگو تیز ہو گئی ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر