اعظم خان کے 4 مقدمات کی سماعت سے جج سمیر جین کا علیحدگی
جج سمیر جین اعظم خان کے چار مقدمات کی سماعت سے الگ، یتم خانہ کیس سمیت سیاسی اور قانونی ہلچل بڑھ گئی۔
سماجی سیاست میں آج ایک اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے، جب سماجی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کے خلاف یتم خانہ کیس سمیت کل چار مقدمات کی سماعت کرنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج سمیر جین نے خود کو ان مقدمات کی سماعت سے الگ کر لیا۔ جج سمیر جین نے اس فیصلے کی وجوہات نہیں بتائیں، لیکن اب یہ مقدمات کسی اور بینچ کے سپرد کیے جائیں گے۔اطلاع کے مطابق، جج سمیر جین نے واضح طور پر کہا کہ وہ اعظم خان سے متعلق کسی بھی مقدمے کی سماعت نہیں کریں گے اور اپنے فیصلے میں یہ بھی شامل کیا کہ ان چاروں مقدمات کی سماعت سے مکمل طور پر الگ ہو رہے ہیں۔ جج کی اس علیحدگی کے بعد قانونی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ مقدمات کی سماعت کس بینچ کے سپرد کی جائے گی اور کیا اس سے مقدمات کی رفتار پر کوئی اثر پڑے گا۔
یتم خانہ کیس میں اعظم خان پر الزام ہے کہ 2016 میں سماجی پارٹی کی حکومت کے دوران انہوں نے غریب بستی کو زبردستی خالی کرایا۔ اس دوران، متاثرین کی شکایت ہے کہ اعظم خان کے عملے نے بستی میں موجود بکریاں، مرغیاں اور دیگر سامان بھی لوٹ لیے۔ متاثرہ افراد نے فوری طور پر پولیس سے رجوع کیا لیکن پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کیونکہ بستی کو خالی کرانے کا انتظام حکومت کی ہدایت پر کیا جا رہا تھا۔اس مقدمے نے سماجی اور سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل مچائی ہے، کیونکہ اعظم خان جیسے سینئر سیاستدان پر عوامی املاک اور افراد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق جج سمیر جین کی علیحدگی کا مطلب ہے کہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن عدالت کی کارروائی کسی بھی صورت میں متاثرہ افراد کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جاری رہے گی۔
اب اس طرح ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سمیر جین کیا کسی سیاسی دباؤمیں تو نہیں ہے۔ اور اگر نہیں ہے تو پھر ایسا کیوں؟





