ٹرمپ اور ظہران ممدانی کی اہم ملاقات سے سیاسی ماحول میں نرمی
ٹرمپ اور ظہران ممدانی کی ملاقات میں تلخیاں کم ہوئیں، نیویارک کے عوامی مسائل پر تعاون اور بہتر تعلقات کی امید ظاہر کی گئی۔
واشنگٹن میں جمعے کے روز ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت دیکھنے میں آئی، جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک شہر کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی سے وائٹ ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات اس لیے اہم ترین قرار دی جا رہی ہے کہ دونوں رہنما اس سے قبل ایک دوسرے پر نہایت سخت اور تلخ بیانات دے چکے تھے، تاہم ملاقات کے بعد دونوں کے لہجے میں دلچسپ حد تک تبدیلی دیکھنے میں آئی۔صدر ٹرمپ جو انتخابی مہم کے دوران ظہران ممدانی کو ’’سو فیصد کمیونسٹ‘‘، ’’انتہا پسند‘‘ اور ’’پاگل‘‘ جیسے الفاظ سے پکار چکے تھے، ملاقات کے بعد مفاہمت کی طرف مائل دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات سیاسی عمل کا حصہ ہیں، لیکن عوام کے مفاد کے لیے مشترکہ نکات پر مل کر کام کرنا ہی ذمہ دار قیادت کا تقاضا ہے۔ دوسری طرف ظہران ممدانی بھی پہلے ٹرمپ حکومت کو ’’آمرانہ‘‘ قرار دے چکے تھے اور یہاں تک کہ خود کو ’’ڈونالڈ ٹرمپ کا بدترین خواب‘‘ بھی کہہ چکے تھے۔ اس کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت حیرت انگیز طور پر مثبت رہی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وقت کے ساتھ سوچ میں تبدیلی آتی ہے اور وہ خود بھی اپنے پہلے دورِ حکومت کے مقابلے میں زیادہ پختگی کے ساتھ معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ظہران ممدانی میں شہر کے لیے کام کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ آنے والا وقت کچھ قدامت پسندوں کے لیے حیرت انگیز ثابت ہو گا۔ صحافیوں کے سوال پر کہ آیا وہ ظہران کی میئر شپ میں نیویارک میں رہتے ہوئے خود کو مطمئن محسوس کریں گے، ٹرمپ نے جواب دیا کہ ملاقات کے بعد ان کی رائے مثبت ہوئی ہے۔ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں نیویارک کے عوام سے متعدد عوامی فلاح پر مبنی وعدے کیے تھے، جن میں مفت بس سروس کا آغاز، کرایوں میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نمٹنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ وہ نکات تھے جنہوں نے شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگائی کا مسئلہ وہی تھا جسے صدر ٹرمپ نے 2024 کے انتخابات میں اپنا مرکزی ایجنڈا بنایا تھا۔
ملاقات کے بعد ظہران ممدانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت نہایت مفید رہی۔ دونوں شخصیات نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نیویارک ایسا شہر ہے جس سے دونوں کو جذباتی تعلق ہے اور اسے مزید بہتر بنانا ان کی مشترکہ خواہش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے لیے سہولتوں کو زیادہ قابلِ برداشت بنانے کے منصوبوں پر صدر کے ساتھ اشتراک کے خواہش مند ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات نے وفاقی حکومت اور نیویارک سٹی ایڈمنسٹریشن کے درمیان آئندہ تعلقات کے لیے مثبت ماحول پیدا کیا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سخت بیان بازی کے باوجود دونوں رہنما شہر کی بہتری کے لیے تعاون کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔





