خبرنامہ

روس۔بھارت تعلقات پر دباؤ کے باوجود روسی سفیر کا بڑا بیان

روس اور بھارت کے تعلقات اس وقت عالمی حالات، اقتصادی دباؤ اور مغربی دنیا کے سیاسی مطالبات کی وجہ سے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اس ماحول میں بھارت میں تعینات روس کے سفیر ڈینس الیپوف نے دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کئی اہم نکات پیش کیے ہیں۔ مغربی ممالک مسلسل یہ خواہش ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت روسی تیل کی خریداری کم کرے، جب کہ بھارت نے اپنی توانائی کی ضرورتوں کو ترجیح دیتے ہوئے تیل کی درآمد جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر ٹیرِف لگانے جیسے اقدامات کیے گئے، لیکن اس کے باوجود روسی سفیر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کا سلسلہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔
سفیر ڈینس الیپوف نے روسی خبر رساں ادارے TASS کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ روس مغربی دباؤ یا پابندیوں کے باوجود بھارت کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے اور مستقبل میں بھی بھارت کو پُرکشش اور فائدہ مند توانائی ڈیلز پیش کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی کمپنیاں، جن میں روہےنفت اور لوکوئل شامل ہیں، امریکی پابندیوں کی زد میں آئی ہیں، جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود روس بھارت کو ایک اہم توانائی شراکت دار کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت روس کے لیے ترجیحی منڈی ہے اور یہ شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
الیپوف نے بھارت کی خارجہ پالیسی کی خودمختاری کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بھارت نے مغربی دباؤ کے باوجود روس۔بھارت تعلقات کو کمزور ہونے نہیں دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو نظرانداز کر کے لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ ایسی پابندیاں عالمی مالیاتی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرتی ہیں۔ سفیر کے مطابق بھارت سمجھتا ہے کہ یکطرفہ اقتصادی پابندیاں عالمی اعتماد کو تباہ کرتی ہیں اور ایسے حالات خودمختار ممالک کو متبادل مالیاتی راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ روس اور بھارت، ان کے مطابق، برکس اور ایس سی او جیسے پلیٹ فارمز کو مضبوط بنا کر عالمی سطح پر نئی معاشی گنجائشیں پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں نے دونوں ممالک کے درمیان نئے شعبوں میں تعاون کے دروازے کھولے ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکی ٹیرِف کے سبب بھارت کی بعض مصنوعات خصوصاً سمندری خوراک کے لیے روس ایک بڑی کھپت گاہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے، کھاد سازی اور مشترکہ صنعتی منصوبوں میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ڈینس الیپوف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والے آئندہ سربراہی اجلاس پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی توانائی عطا کرے گی اور تعاون کو مزید بلندیوں تک لے جائے گی۔ توانائی، تجارت، سکیورٹی اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے موضوعات اس اجلاس کا اہم حصہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے لیے ’’بہت سی جامع اور بلند نظری منصوبہ بندی‘‘ جاری ہے اور دونوں ممالک اس اجلاس سے ٹھوس نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر