سپریم کورٹ گورنر اور صدر کے آئینی اختیارات پر فیصلہ کرے گی
سپریم کورٹ جمعرات کو صدر کے 14 سوالات پر فیصلہ سنائے گی، گورنر اور ریاستی بلوں کے اختیارات پر اہم رائے متوقع ہے۔
ی اعلیٰ عدالت میں جمعرات کا دن آئینی اعتبار سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ گورنر اور صدرِ جمہوریہ کے اختیارات سے متعلق ایک بڑے اور تاریخی فیصلے کا اعلان کرے گی۔ صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے حال ہی میں 14 اہم آئینی سوالات عدالت کے سامنے رکھے تھے، جن پر عدالت اپنی رائے پیش کرنے والی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا اثر پورے ملک کی وفاقی ڈھانچے، ریاستوں کے اختیارات اور گورنروں کے کردار پر دور رس نتائج چھوڑ سکتا ہے۔سپریم کورٹ کی آئینی بنچ یہ طے کرے گی کہ کیا عدالت گورنر اور صدر کے لیے ریاستی اسمبلیوں سے منظور شدہ بلوں پر فیصلہ کرنے کی کوئی لازمی مدت مقرر کر سکتی ہے یا یہ اختیار ان آئینی عہدوں کے دائرہ اختیار میں ہی رہتا ہے۔ چیف جسٹس بی۔ آر۔ گوئی کی سربراہی میں جس بنچ نے یہ معاملہ سنا، اس میں جسٹس سوریا کانت، جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس پی۔ ایس۔ نرسمہا اور جسٹس اے۔ ایس۔ چندرچڑکا بھی شامل تھے۔
یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ تک پہنچا تھا جب عدالت کی دو رکنی بنچ نے تمل ناڈو حکومت کے ایک مقدمے میں کہا تھا کہ گورنر کسی بھی بل پر غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہ سکتے اور انہیں معقول وقت میں فیصلہ کرنا لازم ہے۔ اسی پس منظر میں صدرِ جمہوریہ نے آئینی ابہام کو دور کرنے کے لیے 14 سوالات سپریم کورٹ کے پاس بھیجے تھے۔اس سے قبل اپریل میں جسٹس جے۔ بی۔ پاردی والا اور جسٹس آر۔ مہادیون کی دو رکنی بینچ نے واضح کیا تھا کہ گورنر کو ریاستی قانون ساز اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے بلوں پر تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنا چاہیے۔ خواہ فیصلہ یہ ہو کہ بل کو منظوری دی جائے، روک دیا جائے یا صدرِ جمہوریہ کے پاس بھیج دیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی بل دوبارہ اسمبلی سے منظور ہو کر گورنر کے پاس آئے تو ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنا لازم ہے۔ اسی طرح اگر گورنر کوئی بل صدر کے پاس بھیجتے ہیں تو وہاں بھی تین ماہ کے اندر فیصلہ ہونا چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے انہی نکات کے تناظر میں سپریم کورٹ سے وضاحت طلب کی تھی کہ آیا عدالت گورنر یا صدر جیسے آئینی عہدوں کے لیے فیصلہ سازی کی مدت مقرر کر سکتی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی رکھا گیا ہے کہ کیا گورنر کے فیصلے عدالتی جائزے (Judicial Review) کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں۔سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کو بھارت کے آئینی ڈھانچے کے لیے ایک سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی تشریح میں مزید واضحیت پیدا ہو سکتی ہے۔





