بنگلہ دیش کا بھارت سے شیخ حسینہ کی فوری واپسی کا مطالبہ
بنگلہ دیش نے بھارت سے شیخ حسینہ اور اسدالزمان کی فوری حوالگی مانگی، عدالت نے دونوں کو انسانیت مخالف جرائم میں سزائے موت دی۔
بنگلہ دیش نے ایک مرتبہ پھر بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اور سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال کو فوری طور پر ڈھاکا کے حوالے کیا جائے۔ دونوں اس وقت بھارت میں مقیم ہیں اور بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹربیونل نے انہیں سنگین نوعیت کے انسانیت مخالف جرائم میں سزائے موت سنائی ہے۔پیر کے روز بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بین الاقوامی جرائم ٹربیونل نے طویل عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر دونوں رہنماؤں کو قصوروار قرار دیا ہے۔ بیان میں ان شخصیات کو ’’مفرور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد انہیں ہر حال میں قانون کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے اعلامیے میں یہ بھی کہا کہ اگر کوئی ملک ایسے افراد کو پناہ دیتا ہے جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ثابت ہو چکے ہوں، تو یہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الدولی تعلقات میں غیر دوستانہ طرزِ عمل بھی تصور کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان موجود تحویلِ ملزمان کے معاہدے کے تحت بھارت پر لازم ہے کہ وہ مطلوب افراد کو ڈھاکہ کے حوالے کرے۔بنگلہ دیشی حکام نے یہ بھی وضاحت کی کہ نئی دہلی کو اس سے پہلے کئی مرتبہ باضابطہ خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں جن میں شیخ حسینہ اور اسد الزمان خان کمال کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے ان درخواستوں کا کوئی مثبت یا واضح جواب موصول نہیں ہوا۔
خارجہ امور کے ایک اعلیٰ مشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے متعدد سفارتی یادداشتیں اور خطوط بھیجے گئے، مگر بھارت کی طرف سے کسی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اب اس معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، اس لیے بھارت کو بین الاقوامی اصولوں اور دو طرفہ معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک قانونی فیصلے کا نہیں بلکہ علاقائی امن، سفارتی اعتماد اور بین الاقوامی انصاف کے نظام کی ساکھ کا بھی ہے۔ اس لیے نئی دہلی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے اور معاہدے کے تحت اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں مطلوب افراد کو فوراً بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کرے تاکہ عدالتی کارروائی مکمل ہو سکے اور انصاف کا عمل آگے بڑھ سکے۔





