سپریم کورٹ میں شراب کے ٹیٹرا پیک پر سخت سوالات اٹھائے گئے
سپریم کورٹ نے شراب کے ٹیٹرا پیک پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے بچوں و نوجوانوں کے لیے خطرناک قرار دیا اور معاملہ ثالثی کو بھیج دیا۔
نئی دہلی میں سپریم کورٹ میں پیر کے روز شراب کے دو معروف برانڈز کے درمیان ٹریڈ مارک تنازعے کی سماعت کے دوران ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا۔ کارروائی کے دوران وکلانے عدالت کے روبرو پہلے شراب کی بوتلیں اور اس کے بعد اسی شراب کے ٹیٹرا پیک پیش کیے۔ یہ مناظر دیکھ کر بینچ میں شامل جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باکچی نے حیرت کے ساتھ ساتھ تشویش کا اظہار بھی کیا۔جیسے ہی سینئر وکیل مُکُل روہتگی نے وہسکی کے ٹیٹرا پیک عدالت کے سامنے رکھے، جسٹس سوریا کانت نے سخت لہجے میں سوال کیا کہ آخر ایسی پیکنگ کو اجازت دینا کس حد تک صحیح ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ہلکے اور آسانی سے چھپ جانے والے پیک اسکولوں اور کالجوں میں با آسانی لے جائے جا سکتے ہیں، جو معاشرتی سطح پر ایک بڑے خطرے کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کئی ریاستی حکومتیں عوامی صحت کے بجائے محض آمدنی کے حصول میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔
جسٹس باکچی نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی پیکنگ کے ذریعے عوام کی صحت سے سمجھوتہ ہو رہا ہے۔ سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے دعویٰ کیا کہ ٹیٹرا پیک دیکھنے میں عام دودھ یا جوس کے ڈبوں سے ملتے جلتے ہیں، اس لیے عام آدمی کو فوراً اندازہ نہیں ہوتا کہ اس میں شراب ہے، اوپر سے ان پر مناسب وارننگ بھی درج نہیں ہوتی۔عدالت کے سامنے یہ بحث اُس وقت سامنے آئی جب وہ ’’جان ڈسٹلریز بمقابلہ الائیڈ بلینڈرز اینڈ ڈسٹلرز‘‘ کے ٹریڈ مارک جھگڑے کی سماعت کر رہی تھی، جس میں “Original Choice” اور “Officer’s Choice” ناموں کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ مدراس ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں الائیڈ بلینڈرز کے حق میں فیصلہ دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اس اختلاف کو باہمی مفاہمت کے ذریعے حل کرنے کے لیے معاملہ سابق جج جسٹس ایل۔ ناگیشور راؤ کے حوالے کر دیا۔
سپریم کورٹ نے دونوں کمپنیوں کو واضح طور پر ہدایت دی کہ ٹیٹرا پیک میں شراب کی فروخت کے مسئلے کو محض تجارتی معاملہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے بڑے عوامی مفاد کا معاملہ سمجھ کر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ کم قیمت ہونے کی وجہ سے ٹیٹرا پیک شراب کی فروخت سب سے زیادہ ہوتی ہے، اور یہی آسان لے جانے والی پیکنگ نوجوانوں اور کم عمر بچوں کے لیے خطرناک رجحان کو جنم دے سکتی ہے۔





