ڈھاکا میں عوامی لیگ دفتر پر حملہ، آتش زنی اور کشیدگی
ڈھاکا میں عوامی لیگ کے دفتر میں آتش زنی، مظاہرین کا حملہ، پولیس نے دو افراد گرفتار کیے، تحقیقات جاری۔
ڈھاکا ۔ بنگلادیش کی دارالحکومت ڈھاکا کے علاقے گلستان میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے مرکزی دفتر میں جمعرات کی دوپہر آتش زنی کے واقعے نے ملک کے سیاسی حالات کو ایک بار پھر کشیدہ کر دیا ہے۔مقامی پولیس اسٹیشن کے ڈیوٹی آفیسر سب انسپکٹر نشاط نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’’دفتر میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔‘‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر عوامی لیگ کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ:
’’یہی وہ جمہوری اصلاحات ہیں جن کا پرچار محمد یونس اور ان کے حامی کر رہے ہیں، جہاں سب سے بڑی اور بااثر سیاسی جماعت پر عبوری حکومت اور اس کے اتحادی مسلسل حملے کر رہے ہیں۔‘‘
عوامی لیگ کے مطابق یہ واقعہ حالیہ عدالتی پیش رفت کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے تحریکِ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ اور تین دیگر افراد کے خلاف دائر مقدمے کا فیصلہ 17 نومبر کو سنایا جانا ہے۔عوامی لیگ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے قبل مخالف گروہوں نے سیاسی دباؤ ڈالنے کی نیت سے دفتر پر حملہ کیا۔موقع پر موجود عینی شاہدین کے مطابق، بنگلہ دیش اسلامی چھاترو شِبیر اور نیشنل سٹیزنز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مظاہرین عوامی لیگ کے دفتر کے باہر جمع ہوئے، جنہوں نے نعرے بازی کے بعد دفتر کے اندر گھس کر فرنیچر کو جمع کر کے آگ لگا دی۔ اس دوران مظاہرین نے عمارت کے باہر رکھی گئی مجسموں کو بھی توڑ پھوڑ کر نقصان پہنچایا۔
پولیس کے مطابق، دوپہر تقریباً 12 بج کر 15 منٹ پر مظاہرین نے دو افراد کو جن پر شبہ تھا کہ وہ طلبہ لیگ (عوامی لیگ کے طلبہ ونگ) کے ارکان ہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔ دونوں کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔پولیس آفیسر نیشات نے بتایا کہ ’’صورتحال فی الحال قابو میں ہے، مگر ہم مزید گرفتاریاں خارج از امکان نہیں سمجھتے۔‘‘ڈھاکا میں یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ملک میں عبوری حکومت اور عوامی لیگ کے درمیان سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر 17 نومبر کو آنے والا عدالتی فیصلہ عوامی لیگ کے خلاف گیا تو ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور تشدد کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔دوسری جانب عوامی لیگ کے رہنماؤں نے کارکنوں سے پرامن رہنے اور ’’سیاسی اشتعال انگیزی کا جواب صبر سے دینے‘‘ کی اپیل کی ہے۔





