گجرات میں گائے کے ذبیحہ پر تین افراد کو عمر قید
گجرات عدالت نے گائے کے ذبیحہ کیس میں تین افراد کو عمر قید اور ۱۸ لاکھ جرمانہ سنایا، فیصلہ تاریخی قرار۔
امریلی (گجرات) ۔ گجرات کی ایک سیشن عدالت نے منگل کے روز گائے کے ذبیحہ کے الزام میں تین افراد کو گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ کے تحت عمر قید کی سزا سنائی، جسے ریاست میں اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔سیشن جج رضوانہ بخاری نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے جان بوجھ کر ایسا عمل کیا جو ہندو مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے، کیونکہ ہندو مت میں گائے کو مقدس درجہ حاصل ہے۔ عدالت نے تینوں مجرموں قاسم سولنکی، ستار سولنکی اور اکرام سولنکی پر مجموعی طور پر ۱۸ لاکھ روپے سے زائد جرمانہ بھی عائد کیا۔خصوصی پبلک پراسیکیوٹر چندریش مہتا کے مطابق، یہ گجرات میں پہلا موقع ہے کہ ایک ہی مقدمے میں گائے کے ذبیحہ کے جرم پر تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ مقدمہ نومبر ۲۰۲۳ء میں درج ہوا تھا جب پولیس کانسٹبل ونراج منجاریا نے رپورٹ دی کہ ملزمان نے بہارپارہ، موٹا کھٹکی واڑ علاقے میں ایک گائے کو ذبح کیا اور اس کے باقیات نالے میں پھینک دیے۔ پولیس نے چھاپے کے دوران ۴۰ کلو گائے کا گوشت، جانور کے باقیات، چاقو ترازو اور ایک گاڑی برآمد کی۔ اکرام سولنکی کو موقع پر ہی گرفتار کیا گیا، جب کہ دیگر دو ملزمان بعد میں خود پولیس کے سامنے پیش ہوئے۔ملزمان کے خلاف نہ صرف گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ بلکہ بھارتی تعزیری قانون (IPC) کی مختلف دفعات کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ریاستی وزیر جیتو واگھانی نے فیصلے کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ گائے کے ذبیحہ میں ملوث عناصر کے لیے ایک سخت انتباہ ہے۔ انہوں نے کہا:’گائیں ہندوستانی تہذیب اور ہندو عقیدت کا مرکز ہیں۔ گجرات حکومت ایسے جرائم پر کسی قسم کی نرمی نہیں دکھائے گی۔‘‘وزیر نے مزید کہا کہ ریاست گایوں کے تحفظ اور ان کی حرمت کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔لیکن یہی بی جے پی حکومت دوسرے صوبے میں گائے کو لے کر اپنا رخ بالکل الگ رلکھتی ہے۔





