دہلی دھماکہ: آٹھ ہلاکتیں، متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر
دہلی دھماکے میں آٹھ افراد جاں بحق، بیشتر رکشہ و کیب ڈرائیور، لواحقین انصاف اور سرکاری امداد کے منتظر۔جانیے سب کی تفصیل۔
دہلی میں پیش آنے والے ہولناک دھماکے کے بعد شہر سوگ میں ڈوب گیا ہے۔ دہلی پولیس کے ترجمان کے مطابق اس حادثے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے تھے۔ مرنے والوں میں محمد جمن، محسن ملک، دنیش مشرا، لوکیش اگروال، اشوک کمار، نعمان، پنکج سہنی اور اَمر کتاریا شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر رکشہ یا کیب چلاتے تھے جب کہ کچھ کا کاروبار لال قلعہ کے آس پاس تھا۔
محسن ملک کا تعلق میرٹھ سے تھا مگر وہ کئی برسوں سے دہلی کے سول لائنز علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ وہ لال قلعہ کے نزدیک ای۔رکشہ چلاتے تھے اور حادثے کے وقت اسی علاقے میں موجود تھے۔ دھماکے کے بعد ان کا فون موقع پر ہی ملا، بعدازاں پولیس نے ان کے اہلِ خانہ کو ایل این جے پی اسپتال جانے کا مشورہ دیا، جہاں رات گئے ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ محسن کی بہن غم سے نڈھال تھیں اور بار بار کہہ رہی تھیں کہ ’’اب ان کے بچوں کو کون سنبھالے گا؟‘‘۔دنیش مشرا تقریباً 35 برس کے تھے اور چاوڑی بازار میں شادی کے کارڈ کی دکان پر ملازم تھے۔ وہ اترپردیش کے شراوستی ضلع سے تعلق رکھتے تھے مگر پچھلے پندرہ برس سے دہلی میں ہی مقیم تھے۔ ان کی اہلیہ اور تین بچے ہیں۔ دنیش کے بھائی نے بتایا کہ رات دیر تک رابطہ نہ ہونے پر جب وہ اسپتال پہنچے تو طویل انتظار کے بعد ہی انہیں بھائی کی موت کی خبر ملی۔
محمد جمن کا تعلق بنیادی طور پر بہار سے تھا اور وہ دہلی کے شاستری پارک میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتے تھے۔ گھر کے اخراجات کے لیے وہ لال قلعہ کے علاقے میں ای۔رکشہ چلاتے تھے۔ حادثے کے وقت وہ دھماکے کی جگہ سے کچھ فاصلے پر موجود تھے۔ ان کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ انہوں نے جمن کی شناخت صرف ان کے کپڑوں سے کی کیونکہ جسم بری طرح متاثر تھا۔نعمان جن کی عمر صرف 22 برس تھی۔ وہ شاملی کے جھنجھانا قصبے کے رہنے والے تھے اور دہلی میں کاسمیٹکس کی دکان چلاتے تھے۔ وہ اور ان کا بھائی اَمن خریداری کے لیے دہلی آئے ہوئے تھے جب یہ سانحہ پیش آیا۔ نعمان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جب کہ اَمن اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اہلِ خانہ نے حکومت سے مالی امداد اور مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرنے والوں میں لوکیش اگروال بھی شامل تھے جن کی عمر 55 برس تھی۔ وہ امروہہ کے حسن پور قصبے کے رہنے والے تھے اور حادثے کے وقت اپنے رشتہ دار کو دیکھنے گنگا رام اسپتال گئے تھے۔ واپسی پر چاندنی چوک کے قریب وہ اپنے دوست اشوک کمار سے ملے ۔ دونوں ہی دھماکے میں مارے گئے۔ اشوک دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں کنڈکٹر کے طور پر ملازم تھے اور ان کے تین بچے ہیں۔
پانچواں جاں بحق ہونے والا نوجوان پنکج سہنی صرف 22 برس کا تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ دہلی میں رہتا تھا اور پرائیویٹ کیب چلاتا تھا۔ دھماکے کے وقت وہ پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہا تھا۔
اَمر کتاریا، جو سری نواس پوری میں رہتے تھے، لال قلعہ کے قریب اپنی دکان چلاتے تھے۔ ان کے والد کے مطابق وہ گھر کے لیے نکلے ہی تھے کہ حادثے کی زد میں آگئے۔ اہلِ خانہ نے الزام لگایا کہ اسپتال انتظامیہ نے متاثرین کے اہلِ خانہ کو طویل وقت تک معلومات فراہم نہیں کیں کیونکہ حکام کی توجہ سیاسی شخصیات کی آمد پر مرکوز تھی۔
حادثے کے بعد وزیرِ داخلہ اور دہلی کی وزیرِ اعلیٰ دونوں اسپتال پہنچے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے مطابق اسپتال کے اندر حالات بے حد پریشان کن تھے۔ درجنوں لوگ اپنے پیاروں کی خبر کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی صورتِ حال میں ان کی اولین ترجیح مریضوں کی جان بچانا تھی۔یہ سانحہ دہلی کے دل میں ایک اور زخم چھوڑ گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور بے بسی نے شہر بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ حکومت اور تفتیشی ادارے اس حادثے کے ذمے داروں تک کب اور کیسے پہنچتے ہیں۔





