بہار انتخابات 2025: این ڈی اے کو برتری، مہاگٹھ بندھن پیچھے
بہار انتخابات 2025 میں این ڈی اے کو واضح برتری، مہاگٹھ بندھن پیچھے، جن سوراج کو عوامی حمایت نہ مل سکی۔
بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے کے ساتھ ہی مختلف ایگزٹ پولز کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ ان میں چانکیہ اسٹریٹیجیز، دی نِک بھاسکر، ڈی وی ریسرچ، جے وی سی، میٹریز، پی مارک، پیپلز انسائٹس اور پیپلز پلس جیسے اداروں کے سروے شامل ہیں۔ تقریباً تمام ایگزٹ پولز میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو واضح اکثریت ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وہیں، بیشتر تجزیوں میں مہاگٹھ بندھن کی نشستیں 100 سے کم رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ پراشانت کشور کی نئی پارٹی جن سوراج کو عوامی حمایت نہیں ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ این ڈی ٹی وی کے “پول آف پولز” کے مطابق، این ڈی اے کو 147، مہاگٹھ بندھن کو 90، جن سوراج کو ایک اور دیگر جماعتوں کو 5 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سینئر صحافی سنجیو شریواستو کے مطابق، ایگزٹ پول کے نتائج زمینی حالات سے میل کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار کے بیشتر اضلاع جیسے پٹنہ، مظفرپور، دربھنگہ اور کشن گنج میں جن سوراج کی سرگرمیاں کم نظر آئیں، اس لیے سروے میں بھی ان کی جھلک نہیں دکھی۔ ان کے مطابق، نیّتیش کمار کے خلاف کوئی خاص ناراضی نہیں پائی گئی، اسی لیے این ڈی اے کو بڑھت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹوں کا رجحان ذات پات پر مبنی رہا، جس کا براہِ راست فائدہ جے ڈی یو کو پہنچا۔ اس پر سینئر تجزیہ کار ویر سانگھوی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اعلان سے پہلے ہی مہاگٹھ بندھن کی جماعتیں اندرونی اختلافات کا شکار تھیں، اور کئی سیٹوں پر “فرینڈلی فائٹ” نے ان کا نقصان کیا۔ ان کے مطابق، تیجسوی یادو کی مہم میں نیا پن نہیں تھا جبکہ پراشانت کشور نے نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کیا لیکن ووٹ میں وہ رجحان نہیں بدل سکے۔
این ڈی ٹی وی کے مینیجنگ ایڈیٹر اکھلیش شرما نے کہا کہ 2020 کے مقابلے میں اس بار تیجسوی یادو کی ریلیوں میں وہی جوش نہیں تھا، کیونکہ نوجوان طبقہ بڑی حد تک پراشانت کشور کی جانب متوجہ ہوا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ “انتخابات زمین پر جیتے جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر نہیں۔” انہوں نے کہا کہ اگر ایگزٹ پول کے نتائج درست ثابت ہوئے تو یہ جن سوراج کے لیے ایک حقیقت پسندانہ تشخیص ہوگی۔ دوسری جانب سینئر صحافی پربھو چاولہ نے کہا کہ بہار میں زیادہ ووٹنگ ہمیشہ حکومت مخالف نہیں بلکہ اکثر حکومت کے حق میں ہوتی ہے، اس بار بھی یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔
چونکانے والی بات یہ ہے کہ ریاست میں ریکارڈ سطح پر ووٹنگ ہوئی جو عام طور پر تبدیلی کی علامت مانی جاتی ہے، مگر اس بار یہ لہر پرو اِنکمنبنسی یعنی حکومت کے حق میں دکھائی دے رہی ہے۔ ویر سانگھوی نے کہا کہ بہار میں نیّتیش کمار برسوں سے حکومت کر رہے ہیں، لیکن عوام میں ان کے خلاف کوئی تھکن یا بیزاری نہیں دکھتی۔ انہوں نے نیّتیش کا موازنہ نریندر مودی سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے مودی کو مسلسل اپنی کامیابیاں گنوانی پڑتی ہیں، ویسے ہی نیّتیش کو بھی عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں مہارت حاصل ہے۔انتخابی ماہر پرتیپ گپتا کے مطابق، اس بار زیادہ ووٹنگ کی ایک بڑی وجہ وہ مہمان مزدور ہیں جنہیں پارٹیوں نے واپسی کے لیے سہولت فراہم کی۔ ان کے مطابق، ذات پات اب بھی بہار کی سیاست کا بنیادی عنصر ہے، اور جن اتحادوں کو ملاح اور دلت ووٹروں کی حمایت ملی، وہی بازی جیتیں گے۔ چھٹھ پوجا کے فوراً بعد ووٹنگ ہونے سے بھی ووٹرز کا ٹرن آؤٹ ریکارڈ سطح پر پہنچا۔ عام طور پر بہار میں 57 فیصد ووٹنگ ہوتی ہے، مگر اس بار دونوں مرحلوں میں 65 فیصد سے زائد رائے دہی ہوئی ہے۔
مشہور مصنف چیتن بھگت نے کہا کہ “یہ نتائج کچھ حد تک بورنگ ہیں، کیونکہ جیسے کرکٹ میں بھارت بار بار جیتتا رہے تو دلچسپی کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی بہار میں نیّتیش کمار کی مسلسل کامیابی نے انتخابی مقابلے کی سنسنی کو کم کر دیا ہے۔ تاہم، این ڈی اے کے لیے یہ یقیناً خوشی کی خبر ہے۔”





