زہریلی ہوا کا حملہ۔ دہلی میں سانس لینا دشوار
دہلی میں آلودگی عروج پر، پرالی جلانے اور دیوالی پٹاخوں سے فضا زہریلی، حکومت سیاسی مفاد میں صحت نظرانداز کر رہی ہے۔
نئی دہلی۔دہلی اور نواحی علاقوں این سی آر میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی فضائی آلودگی نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال عوامی صحت کے لیے ہیلتھ ایمرجنسی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت کی آلودہ فضا کی ایک بڑی وجہ کھیتوں میں پرالی جلانے کے واقعات ہیں۔آئی سی اے آر-آئی اے آر آئی کریمز لیب کے مطابق، صرف 24 گھنٹوں کے دوران چھ ریاستوں میں پرالی جلانے کے واقعات میں 60.38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔7 نومبر کو ایسے 568 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جو اگلے روز بڑھ کر 911 تک پہنچ گئے۔8 نومبر تک مجموعی طور پر 8365 واقعات درج کیے گئے ہیں جن میں پنجاب سب سے آگے رہا، جہاں 3622 کیس رپورٹ ہوئے۔ ماہرین کے مطابق ان آگزنی واقعات نے دہلی۔این سی آر میں سماگ کو بڑھا دیا ہے اور فضا میں زہریلے ذرات کی مقدار خطرناک حد تک جا پہنچی ہے۔
دہلی، نوئیڈا اور غازی آباد میں AQI 350 سے 400 کے درمیان برقرار ہے۔دہلی حکومت نے GRAP-II نافذ کر دیا ہے اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو GRAP-III بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔پنجاب میں دھان کی کٹائی کے آخری مرحلے کے دوران کسانوں کی جانب سے پرالی جلانے کے 440 نئے کیسز درج ہوئے، جس کے بعد کل تعداد 4062 تک پہنچ گئی۔سَنگرور ضلع جو وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان کا آبائی علاقہ ہے، میں سب سے زیادہ 180 مقدمات درج ہوئے۔فیروزپور میں 163، ترن تارن میں 135، پٹیالہ میں 134 اور امرتسر میں 110 مقدمات رپورٹ کیے گئے۔پنجاب کے مختلف شہروں میں آلودگی کی سطح بھی خطرناک بتائی گئی ہے۔مندی گوبند گڑھ کا AQI 240، خنہ کا 213, لدھیانہ کا 208, جالندھر کا 156 اور پٹیالہ کا 141 ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف پرالی جلانے تک محدود نہیں۔سیاسی مفادات کے تحت دیوالی کے موقع پر پٹاخوں کے استعمال کی اجازت دینا آلودگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ہر سال اس موقع پر فضا میں زہریلی گیسیں اور دھواں شامل ہوتا ہے، مگر کچھ سیاسی جماعتیں مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے انسانی صحت کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔ان کے مطابق ایسے فیصلے نہ صرف ماحولیاتی نظام بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ماہرین اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی دباؤ کے بجائے عوامی صحت کو ترجیح دے اور پرالی کے ساتھ ساتھ پٹاخوں کے استعمال پر بھی سختی سے پابندی عائد کرے۔





