پرینکا گاندھی کا الزام، الیکشن کمیشن ووٹ چوری میں ملوث
پرینکا گاندھی نے بہار ریلی میں الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کا الزام لگایا، 65 لاکھ ووٹر نام ہٹانے کا دعویٰ۔
کٹیہار۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے ہفتے کے روز بہار کے ضلع کٹیہار کے کَدوا میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے “ووٹ چوری” کے مسئلے کو سخت انداز میں اٹھایا۔ انہوں نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اعلیٰ عہدیداروں کو براہِ راست ذمے دار قرار دیا اور الزام لگایا کہ ملک میں جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش کی جا رہی ہے۔اپنے خطاب میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ملک میں کچھ لوگ ووٹ چوری کر رہے ہیں اور انہیں تین لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ ہیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمشنر ویویک جوشی اور ایس ایس سنڈھو۔ یہ تینوں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ ترین افسران ہیں مگر اپنے آئینی فرائض ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ان افسران کی نگرانی میں بہار کے تقریباً پینسٹھ لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں، جو کہ ایک سنگین انتخابی بدعنوانی ہے۔
پرینکا گاندھی نے حاضرین سے سوال کیا، ’’کیا ایسے لوگ جو ملک کے آئین کے خلاف جا کر عوامی حقِ رائے دہی چھین رہے ہیں، انہیں ان کے عہدوں کے پیچھے چھپنے دیا جانا چاہیے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’کیا یہ مناسب ہے کہ یہ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کی زندگی گزاریں، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں؟ جنہوں نے عوام کے اعتماد کو توڑا اور آئین سے غداری کی، کیا قوم کو انہیں فراموش کر دینا چاہیے یا یاد رکھنا چاہیے؟‘‘انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان تینوں افسران کے نام وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے ساتھ یاد رکھیں، کیونکہ ان کے بقول ’’یہ سب ایک ہی نظام کا حصہ ہیں جو ووٹروں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ اس سے قبل کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں ہرِیانہ میں مبینہ ووٹ چوری کے الزامات پر پریزنٹیشن پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے انتخابی فہرستوں میں دھاندلی اور ڈیٹا میں ردوبدل کے شواہد دکھائے تھے۔بہار میں اسمبلی انتخابات کے دو مراحل میں ووٹنگ جاری ہے۔ پہلا مرحلہ 6 نومبر کو مکمل ہو چکا ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو منعقد ہوگا۔ نتائج 14 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں انتخابی ماحول تیزی سے گرم ہو رہا ہے، اور پرینکا گاندھی کی تقریر نے انتخابی بحث میں نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی کی جانب سے الیکشن کمیشن پر براہِ راست تنقید ایک غیر معمولی قدم ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کانگریس پارٹی انتخابی شفافیت کے مسئلے کو مرکزی انتخابی ایجنڈا بنانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق، ووٹ چوری کے الزامات آنے والے دنوں میں انتخابی مہم کا سب سے بڑا موضوع بن سکتے ہیں۔





