بہار انتخابات: پہلے مرحلے میں ریکارڈ ووٹنگ، تبدیلی یا اعتماد؟
بہار انتخاب کے پہلے مرحلے میں ریکارڈ ووٹنگ، عوامی جوش عروج پر، نتیجہ طے کرے گا تبدیلی یا نتیش پر اعتماد۔
بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ مکمل ہو چکی ہے۔ جمعرات کو ۱۲۱ نشستوں پر ہونے والی ووٹنگ میں عوام کا جوش قابلِ ذکر رہا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کا تناسب ۶۴.۶۶ فیصد تک پہنچا، جو کہ سال ۲۰۲۰ کے مقابلے میں تقریباً ۸ فیصد زیادہ ہے۔ یہ بہار کی تاریخ میں پہلے مرحلے کی سب سے زیادہ ووٹنگ ہے۔۲۰۲۰ میں یہ شرح ۵۶.۱ فیصد، ۲۰۱۵ میں ۵۵.۹ فیصد جبکہ ۲۰۱۰ میں ۵۲.۱ فیصد رہی تھی۔اس بار تقریباً ۳۶ لاکھ زیادہ ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ۲۰۲۰ کے پہلے مرحلے میں کل ۳.۷۰ کروڑ ووٹرز میں سے ۲.۰۶ کروڑ نے ووٹ دیا تھا،
جبکہ اس بار ووٹرز کی تعداد بڑھ کر ۳.۷۵ کروڑ ہو گئی ہے۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق ۲.۴۲ کروڑ افراد نے ووٹ ڈالے۔
اب سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ کیا یہ زبردست ووٹنگ حکومت مخالف لہر (اینٹی اِنکمنبنسی) کی نشانی ہے یا پھر عوام نے نتیش کمار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ہندوستانی انتخابات میں عام تاثر یہی ہے کہ جب ووٹنگ زیادہ ہوتی ہے تو عوام تبدیلی چاہتے ہیں، مگر کئی بار زیادہ ووٹنگ حکومت کی حمایت کا اشارہ بھی ثابت ہوئی ہے۔مثال کے طور پر:
مدھیہ پردیش 2023 میں ۷۷٪ ووٹنگ ہوئی، پھر بھی بی جے پی نے اقتدار بچا لیا۔
اڑیشہ 2014 میں ۸ فیصد زیادہ ووٹ پڑے، مگر بی جے ڈی دوبارہ اقتدار میں آئی۔
گجرات 2012 میں ۱۱ فیصد زیادہ ووٹنگ کے باوجود نریندر مودی حکومت برقرار رہی۔
بہار 2010 میں بھی ۶.۸ فیصد زیادہ ووٹ پڑے اور جے ڈی(U) اتحاد دوبارہ اقتدار میں آیا۔
تاہم یوپی 2012 میں ۱۳ فیصد اضافی ووٹنگ کے بعد بی ایس پی ہار گئی اور سماجوادی پارٹی اقتدار میں آ گئی۔
پہلے مرحلے کی ان ۱۲۱ نشستوں میں پچھلی بار ۶۰ پر این ڈی اے اور ۶۱ پر مہاگٹھ بندھن نے کامیابی حاصل کی تھی۔
اس بار پرتشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کے شامل ہونے سے مقابلہ سہ فریقی بن گیا ہے۔ این ڈی اے اسے عوامی اعتماد بتا رہی ہے، جبکہ مہاگٹھ بندھن اسے تبدیلی کی علامت کہہ رہا ہے۔
اس انتخاب میں خواتین ووٹروں کی شمولیت غیر معمولی رہی۔ ۲۰۰۵ سے نتیش کمار کو خواتین کا مضبوط ووٹ بینک حاصل رہا ہے۔
ان کی ’’سائیکل اسکیم‘‘ اور ’’شراب بندی‘‘ نے خواتین کو متاثر کیا تھا۔ اب ۲۰۲۵ میں حکومت کی نئی سہایتا یوجنا کے ذریعے وہ دوبارہ خواتین کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں،جبکہ تیجسوی یادو نے ہر خاتون کو ۳۰ ہزار روپے دینے کا وعدہ کر کے انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔نتیش حکومت نے ۱۰ ہزار روپے کی امدادی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح خواتین کا ووٹ ہی طے کرے گا کہ اقتدار کس کے حصے میں آئے گا۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کا رجحان اس بار مقامی مسائل پر منحصر رہے گا۔جہاں نتیش حکومت کی اسکیمیں کامیاب رہیں، وہاں این ڈی اے کو فائدہ ہو سکتا ہے،جبکہ بے روزگاری اور پَلایَن (ہجرت) والے علاقوں میں مہاگٹھ بندھن کو بڑھت ملنے کے امکانات ہیں۔اسی دوران جن سوراج پارٹی کئی نشستوں پر ووٹ کاٹنے یا کنگ میکر کا کردار ادا کر سکتی ہے۔اب سب کی نگاہیں ۱۱ نومبر پر ہیں، جب دوسرے مرحلے کی پولنگ ہوگی۔یہی مرحلہ طے کرے گا کہ بہار کی ریکارڈ ووٹنگ تبدیلی کی گھنتی ہے یا نتیش کی تسلسل کی علامت۔نتائج ۱۴ نومبر کو سامنے آئیں گے، اور تب پتہ چلے گا کہ بہار کا اقتدار کس کے سر سجے گا۔





