بہار اسمبلی انتخابات: پہلے مرحلے میں 3.75 کروڑ ووٹرز فیصلہ کن ووٹنگ
بہار انتخابات کے پہلے مرحلے میں 3.75 کروڑ ووٹرز 1314 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے، بڑے رہنما میدان میں۔
بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ جمعرات کو ہوگی، جس میں تقریباً 3 کروڑ 75 لاکھ ووٹرز 1314 امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ریاست کی 121 نشستوں پر ہونے والی پولنگ میں کئی بڑے اور معروف چہرے میدان میں ہیں، جن میں تیجسوی یادو، سمراٹ چودھری، وجے کمار سنہا، منگل پانڈے اور دیگر اہم رہنما شامل ہیں۔اس مرحلے میں سب سے زیادہ توجہ راگوپور اور تاراپور نشستوں پر ہے، جہاں بالترتیب انڈیا اتحاد کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار تیجسوی یادو اور بی جے پی کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ تیجسوی یادو راغوپور سے تیسری بار کامیابی حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں ہیں۔ ان کے سامنے بی جے پی کے ستیش کمار امیدوار ہیں، جنہوں نے 2010 میں تیزسوی کی والدہ رابڑی دیوی کو شکست دی تھی۔
دوسری جانب، تیجسوی کے بھائی تیج پرتاپ یادو نے اپنی نئی جماعت جنشکتی جنتا دل کے بینر تلے مہوا سیٹ سے امیدوار بن کر انتخابی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اس نشست پر آر جے ڈی کے رکن اسمبلی موکیش روشن کے ساتھ ساتھ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس گروپ) کے سنجے سنگھ اور آزاد امیدوار اشما پروین بھی میدان میں ہیں، جس سے مقابلہ سہ رخی بن گیا ہے۔پہلے مرحلے میں بہار حکومت کے دونوں نائب وزرائے اعلیٰ اور متعدد وزرا کی قسمت بھی ای وی ایم میں بند ہو جائے گی۔ وجے کمار سنہا لکھسرائے سے چوتھی مرتبہ جیتنے کی کوشش میں ہیں، جہاں ان کا مقابلہ کانگریس کے امریش کمار اور جن سوراج پارٹی کے سورج کمار سے ہے۔ سمراٹ چودھری ایک دہائی بعد تاراپور سے براہ راست الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کے مد مقابل آر جے ڈی کے ارون کمار ساہ ہیں، جنہیں پچھلی بار محض پانچ ہزار ووٹوں سے شکست ملی تھی۔بی جے پی کے سینئر رہنما اور وزیر منگل پانڈے پہلی بار اسمبلی انتخابات میں قسمت آزما رہے ہیں۔ وہ سیوان سیٹ سے میدان میں ہیں، جہاں ان کا مقابلہ آر جے ڈی کے تجربہ کار رہنما اودھ بہاری چودھری سے ہے۔ اسی طرح رغوناتھ پور نشست بھی سرخیوں میں ہے، جہاں مرحوم باہوبلی لیڈر محمد شہاب الدین کے بیٹے اسامہ شہاب انتخاب لڑ رہے ہیں۔ این ڈی اے نے ان کے نامزدگی کو “جنگل راج کی واپسی” قرار دیا ہے۔
اس مرحلے میں کئی مشہور چہرے بھی میدان میں ہیں، جن میں لوک گائکہ میتھلی ٹھاکر (بی جے پی، علی گنج)، بھوجپوری اداکار خیساری لال یادو (آر جے ڈی، چھپرا) اور ریتیش پانڈے (جن سوراج پارٹی، کرگہر) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے وزرا نتن نوین (بینکی پور)، سنجے سراوگی (دربھنگہ)، جیبیش کمار (جالے) اور کیدار پرساد گپتا (کُرہنی) بھی اپنی نشستیں بچانے کی کوشش میں ہیں۔ جے ڈی یو کے شروَن کمار (نالندہ) اور وجے کمار چودھری (سرائرنجن) کی قسمت کا فیصلہ بھی اسی مرحلے میں ہوگا۔انتخابی کمیشن کے مطابق، پہلے مرحلے میں 121 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ پٹنہ کی دیگھا سیٹ پر سب سے زیادہ 4.58 لاکھ ووٹرز ہیں، جبکہ بر بیگھا (شیخ پورہ) میں صرف 2.32 لاکھ ووٹرز ہیں۔ کُرہنی اور مظفرپور میں سب سے زیادہ 20 امیدوار میدان میں ہیں، جب کہ بھور، علولی، اور پربتہ نشستوں پر صرف پانچ پانچ امیدوار ہیں۔
پہلے مرحلے میں 45,341 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 36,733 دیہی علاقوں میں ہیں۔ اس بار 10.72 لاکھ نئے ووٹرز اور 7.38 لاکھ نوجوان (18 تا 19 سال) پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ ان 121 حلقوں کی کل آبادی 6.6 کروڑ ہے، جن میں سے 3.75 کروڑ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ بہار میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 7.24 کروڑ ہے، جو پچھلے جائزے کے مقابلے میں تقریباً 60 لاکھ کم ہے۔انتخابات کے اس مرحلے کو بہار کی سیاست کا سب سے اہم اور فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج آئندہ اقتدار کے توازن پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔





