اردو ڈرامے کی روایت اور زوال پر فکرانگیز خطبہ
حرف و صوت سے زیادہ معنی کی وسعت خموشی میں ہوتی ہے: پروفیسر محمد کاظم
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ۱۰۵ویں یومِ تاسیس کے موقع پر شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام منشی نول کشور یادگاری خطبے کا انعقاد
نئی دہلی (۳؍ نومبر): ڈرامے کی داغ بیل دراصل آفرینشِ آدم سے ہی پڑ چکی تھی۔ خدا، عزازیل، آدم اور فرشتے اس کے مرکزی کردار تھے۔ وہاں مکالمہ بھی تھا، کشمکش بھی تھی، ابتدا، ارتقا اور انجام بھی تھا۔ اور یہی عمل اور رد عمل ڈرامے کی اصل روح ہے۔ ڈرامہ صرف حرف و صوت کا میڈیم نہیں، بلکہ خموشی کے وسیلے سے ڈرامہ زیادہ موثر پیامبری کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ترسیل کے لیے تمام بصری، سمعی، صوتی، لونی، حرکی اور غیرملفوظی وسائل موجود ہیں۔ ہندوستان اور یونان ڈرامے کے دو قدیم ترین گہوارے ہیں۔ اردو ڈرامے کے ارتقائی سفر میں لکھنؤ، کولکاتا، ممبئی اور دہلی کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈرامے نے ہماری تاریخ، تہذیب، سیاست و معاشرت اور ادب و ثقافت کو ہمہ جہت شعور و آگہی سے ثروت مند کیا ہے۔ کہنے کو تو بعد میں فلموں نے ڈراموں کو حاشیے میں ڈال دیا، لیکن فلم کی کمزوری یہ ہے کہ وہ دراصل ہدایت کار کی کٹھ پتلی ہے، جب کہ ڈرامہ بنیادی طور پر اداکاری پر مرکوز ہے اور اداکار ہی ڈرامے کا حقیقی ہیرو اور روحِ رواں ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ۱۰۵ویں یومِ تاسیس کے موقع پر شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام منعقدہ منشی نول کشور یادگاری خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے استاذ پروفیسر محمد کاظم نے کیا۔ اس خطبے کے صدر پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ پروفیسر محمد کاظم ڈرامے کے محقق اور ناقد ہی نہیں بلکہ ان کا تعلق اسٹیج ڈرامے کی ہدایت کاری اور اداکاری سے بھی ہے۔ انھوں نے پروفیسر محمد کاظم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطبہ نہایت فکرانگیز اور بلیغ تھا۔ انھوں نے اس مسئلے پر تشویش کا بھی اظہار کیا کہ آج کل اردو میں اول تو ڈرامے بہت کم لکھے جا رہے ہیں اور جو کچھ لکھے بھی جا رہے ہیں، ان کی زبان اس قدر مستحکم نہیں ہے، جو ہمارے اردو ڈراموں کی شناخت رہی ہے۔





