مکاما میں اننت سنگھ گرفتار، دُلارچند یادو قتل کیس کی گونج
مکاما میں اننت سنگھ دُلارچند یادو قتل کیس میں گرفتار، پولیس تفتیش جاری، انتخابی ماحول میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی۔
ہفتہ کی رات پٹنہ سے مکاما تک اچانک پولیس کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے مگر کسی کو علم نہیں تھا کہ اصل میں کیا پیش آنے والا ہے۔ رات تقریباً ایک بجے ڈیڑھ سو سے زیادہ پولیس اہلکار مکاما کے بیڈنا گاؤں پہنچے، جہاں جے ڈی یو کے امیدوار اور معروف رہنما اننت سنگھ کا آبائی مکان ہے۔ پولیس کو اندر جانے میں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اننت سنگھ کو گرفتاری کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ سفید پینٹ شرٹ اور سیاہ چشمہ پہنے افسران کے ساتھ گھر سے باہر آئے اور پولیس نے انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے لیا۔یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے مکاما، باڑھ اور پٹنہ میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ رات گئے پٹنہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر تھییاگ راجن ایس۔ایم۔ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مکاما واقعہ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل ہوگا اور الیکشن کے دوران تمام لائسنس یافتہ اسلحہ جمع کرانا لازم ہوگا تاکہ امن و امان برقرار رہے۔
ان کے ساتھ موجود پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ 30 اکتوبر کو دو امیدواروں کے قافلوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی، جس میں پتھراؤ اور مارپیٹ کے بعد ایک لاش برآمد ہوئی۔ متوفی کی شناخت 75 سالہ دُلارچند یادو کے طور پر کی گئی، جو پہلے بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔پولیس کے مطابق موقعے سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں کے بیانات حاصل ہوئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی اہم شواہد ملے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ اس جھڑپ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی اور امیدوار خود موجود تھے۔ اسی بنیاد پر اننت سنگھ کو بنیادی ملزم قرار دے کر ان کے دو ساتھیوں نیکانت ٹھاکر (نَدواں گاؤں) اور رنجیت رام (لدما گاؤں) کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے مکاما اور آس پاس کے علاقوں میں 50 سے زیادہ سی اے پی ایف (CAPF) چوکیاں قائم کر دی ہیں تاکہ حالات پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ ایک سی آئی ڈی ٹیم بھی تفتیش میں مصروف ہے۔دُلارچند یادو کے اہلِ خانہ اننت سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے، جب کہ اپوزیشن نے اسے بڑا انتخابی مسئلہ بنا دیا۔ آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو نے بھی کارروائی کی مانگ کی۔ الیکشن کمیشن نے ریاستی پولیس سربراہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے پٹنہ رورل ایس پی وکرم سہیاگ سمیت چار افسران کا تبادلہ اور ایک کو معطل کرنے کا حکم دیا۔اس معاملے میں ایک تیسرا اہم کردار بھی ہے سورج بھان سنگھ۔ اننت سنگھ، دُلارچند یادو اور سورج بھان تینوں کی پہچان ایک جیسی رہی ہے: طاقتور، متنازعہ مگر عوام میں اثر و رسوخ رکھنے والے۔ ان کے درمیان دشمنی سن 2000 کے اسمبلی انتخابات سے شروع ہوئی، جب دُلارچند یادو نے اننت سنگھ کے بھائی دلیپ سنگھ کے مخالف امیدوار سورج بھان سنگھ کا ساتھ دیا تھا۔ تب سے اننت اور دُلارچند کے تعلقات خراب ہو گئے۔ بعد کے انتخابات میں اننت سنگھ نے بارہا سورج بھان کو مکاما نشست سے شکست دی۔
اس بار سورج بھان کی اہلیہ وِینا دیوی اننت سنگھ کے مقابلے میں میدان میں ہیں، جبکہ دُلارچند یادو نے اس بار جن سوراج کے امیدوار پیوش پریہ درشی کا ساتھ دیا تھا۔ قتل کے بعد پیوش نے اننت سنگھ پر الزام لگایا، جبکہ اننت نے دعویٰ کیا کہ سورج بھان سنگھ نے سازش رچائی۔یہ گرفتاری انتخابات کے عین موقع پر خطے کی سیاست میں بھونچال پیدا کر چکی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور تمام نظریں اب عدالت اور الیکشن کمیشن کے اگلے فیصلے پر مرکوز ہیں۔





