ترکی میں مسلم ممالک کا اہم اجلاس، غزہ امن منصوبہ زیرِ غور
ترکی پیر کو مسلم وزرائے خارجہ اجلاس بلائے گا، غزہ کے لیے امریکی امن منصوبہ، چیلنجز اور آئندہ اقدامات زیرِ غور ہوں گے۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اعلان کیا ہے کہ پیر کے روز استنبول میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں غزہ کے لیے امریکی امن منصوبے پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ فیدان نے بتایا کہ یہ اجلاس اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گا اور آئندہ کے عملی اقدامات پر مشترکہ حکمتِ عملی طے کرے گا۔ترکی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا گیا ہے۔ فیدان نے کہا کہ ’’ایک امید کی کرن ابھری ہے جو پوری مسلم دنیا کے لیے نئی امید لے کر آئی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں اس منصوبے کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں، ممکنہ چیلنجز، آئندہ اقدامات اور مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔پریس کانفرنس میں فیدان نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ ’’غزہ میں جنگ بندی ختم کرنے اور عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے دوبارہ خونریزی شروع کرنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ترکی غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے ترک امدادی ٹیموں کو داخلے کی اجازت تاحال نہیں دی گئی۔ فیدان نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے جب غزہ کی صورتحال بدستور نازک ہے، اور بین الاقوامی برادری امریکہ کی نئی امن کوششوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک کا یہ مشترکہ لائحہ عمل خطے میں امن کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے۔





