’آمار شونار بنگلہ‘ گیت پر سیاسی تنازع، مہوا موئترا کا ردِعمل
مہوا موئترا نے ’آمار شونار بنگلہ‘ تنازع پر کہا، ٹیگور کا گیت بنگالی جذبات سے جڑا، بی جے پی نے سیاست کی۔
آمار شونار بنگلہ‘ گیت، جو بنگلہ دیش کا قومی ترانہ بھی ہے، بھارت میں ایک نئے سیاسی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ حال ہی میں آسام میں کانگریس پارٹی کی ایک میٹنگ میں جب یہ گیت گایا گیا تو بی جے پی نے اسے ملک مخالف قدم قرار دیا۔ اسی دوران ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ گیت 1905 میں بنگال کی تقسیم کے خلاف روندناتھ ٹیگور نے لکھا تھا اور بعد میں بنگلہ دیش نے اس کی ابتدائی سطریں اپنے قومی ترانے کے طور پر اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ گیت تمام بنگالیوں کی جذباتی پہچان ہے اور “بھگوا ٹرولز” کو اس کی تہذیبی اہمیت سمجھ نہیں آ سکتی۔
آسام کے کابینی وزیر اشوک سنگھل نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ “گریٹر بنگلہ دیش” کے نظریے کو فروغ دے رہی ہے اور ریاست میں غیر قانونی دراندازی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ووٹ بینک کی سیاست کے لیے آسام کی آبادیاتی ساخت کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب، کانگریس کے رہنما گورو گوگوئی نے بی جے پی پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیگور کا یہ گیت بنگالی ثقافت اور ورثے کی علامت ہے، مگر بی جے پی ہمیشہ بنگالی زبان، تہذیب اور لوگوں کی توہین کرتی آئی ہے۔
روندناتھ ٹیگور نے 1905 میں بنگال کی تقسیم کے خلاف احتجاج کے دوران ’آمار شونار بنگلہ‘ لکھا تھا۔ یہ گیت بنگال کے فخر، محبت اور ثقافتی یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعداس کی ابتدائی سطریں قومی ترانے کے طور پر اپنائی گئیں۔ آج، یہ گیت صرف ایک ملک کا ترانہ نہیں بلکہ پورے بنگالی سماج کے تاریخی اور جذباتی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے مگر سیاسی جماعتوں کے بیانات نے اس ادبی تخلیق کو بھی سیاست کے دائرے میں کھینچ لیا ہے۔





