خبرنامہ

بہار کے مُکامہ میں انتخابی مہم کے دوران دُلار چند یادو قتل

بہار کے ضلع پٹنہ کے مُکامہ اسمبلی حلقے میں انتخابی مہم کے دوران پیش آنے والے ایک پُرتشدد واقعے نے سیاسی ماحول کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن سوراج کے امیدوار پیوش پریہ درشی کی حمایت میں انتخابی مہم چلا رہے دُلار چند یادو کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی ہے۔ دُلار چند یادو کبھی آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے اور مقامی سطح پر ایک بااثر اور متنازع شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔مُکامہ کو بہار کی ایک اہم اور حساس نشست سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے ماضی میں اننت سنگھ کئی بار کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس مرتبہ بھی جنتا دل (یونائیٹڈ) نے انہیں امیدوار بنایا ہے جب کہ آر جے ڈی نے سابق رکنِ پارلیمان سورج بھان سنگھ کی اہلیہ وینا دیوی کو میدان میں اتارا ہے۔ دُلار چند یادو کے اہلِ خانہ اور جن سوراج کے امیدوار پیوش پریہ درشی نے اس قتل کا الزام اننت سنگھ پر عائد کیا ہے۔اننت سنگھ نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ وہ تال کے علاقے میں ووٹ مانگنے گئے تھے۔ ان کے مطابق راستے میں انہوں نے دیکھا کہ کہیں بھیڑ لگی ہے، انہیں لگا کہ شاید مخالف امیدوار کے حامی ہوں۔ ان کی تیس گاڑیاں آگے نکل گئیں اور دس پیچھے رہ گئیں، اسی دوران حملہ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب سورج بھان سنگھ کی سازش ہے۔
پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ تیاگ راجن ایس ایم نے اپنے بیان میں کہا کہ مُکامہ اسمبلی حلقے کے تحت دو امیدواروں کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں دُلار چند یادو کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ دُلار چند یادو ماضی میں کئی مجرمانہ مقدمات میں ملزم رہ چکے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جا رہا ہے۔اس واقعے پر مختلف سیاسی جماعتوں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو نے اپنے سماجی میڈیا پیغام میں کہا کہ اقتدار کے سہارے پلنے والے غنڈوں نے مُکامہ میں ایک سماجی کارکن کو قتل کر دیا۔ ان کے مطابق این ڈی اے کے امیدواروں کی زبان اور رویّے میں جو تشدد ہے، اس کے نتائج اب نظر آ رہے ہیں، لیکن وزیرِ اعظم کو اپنا “غنڈا راج” دکھائی نہیں دیتا۔
جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے کہا کہ پارٹی کے مقامی رہنما موقع پر پہنچ چکے ہیں اور مزید تفصیلات ملنے کے بعد ہی کوئی باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا۔ جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ترجمان نیراج کمار نے کہا کہ اس قسم کی ہلاکتیں جمہوری نظام کے لیے افسوسناک ہیں، تاہم قانون اپنا کام ضرور کرے گا۔مقامی صحافیوں کے مطابق دُلار چند یادو 1990 کی دہائی میں باندھ اور مُکامہ تال کے علاقے میں خاصے اثر و رسوخ رکھتے تھے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً جڑے رہے۔ اس واقعے سے قبل ٹیکاری اسمبلی حلقے میں ہندوستانی عوام مورچہ کے امیدوار انل کمار پر بھی انتخابی مہم کے دوران حملہ کیا گیا تھا، جس پر پارٹی کے سرپرست جیتن رام مانجھی نے کہا کہ یہ مہاگٹھ بندھن کی بوکھلاہٹ اور بزدلی کی علامت ہے۔یہ واقعہ بہار میں جاری انتخابی مہم کے دوران بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور تشدد کی ایک سنگین مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر