سیوان میں یوگی آدتیہ ناتھ کی متنازع للکار
سیوان میں یوگی آدتیہ ناتھ کی متنازع للکار، مخالفین پر حملہ، رام مندر ذکر، خاص برادری نشانہ، جنگل راج سے خبردار۔
بہار اسمبلی انتخابات کے پیش نظر قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی انتخابی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے۔ بدھ کے روز اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سیوان کے میدان سے انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے مخالفین پر زبردست حملہ بولا۔ انہوں نے بغیر نام لیے آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو، راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا اور کہا کہ بہار کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ترقی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں یا دوبارہ جنگل راج میں واپس جانا چاہتے ہیں۔یوگی آدتیہ ناتھ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “سیوان میں پھر سے جرم و غنڈہ گردی کا دور واپس نہ آنے پائے۔” انہوں نے پرانے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں ایک وقت ایسا تھا جب عام لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں تھی۔ “آپ کو یاد ہوگا کہ یہاں چاند بابو کے بیٹے پر ایسڈ حملہ ہوا تھا۔ وہ دور واپس نہیں آنا چاہیے، ورنہ پھر سے وہی مجرم سر اٹھا لیں گے۔”
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کانگریس، آر جے ڈی اور سماج وادی پارٹی جیسے اتحاد ایسے لوگوں کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں جو پیشہ ور مجرموں کو اپنا ساتھی بناتے ہیں اور ان کی قبروں پر جا کر عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن، ایک سچے ہندوستانی کے لیے یہ رویہ مناسب نہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو فخر سے کہتے ہیں: “رام للا ہم آئے ہیں، مندر وہیں بنائیں گے” — اور ہم نے یہ وعدہ پورا کر دکھایا۔یوگی آدتیہ ناتھ نے آر جے ڈی کے امیدوار پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “رگوناتھ پور سے آر جے ڈی نے جس امیدوار کو اتارا ہے، اس کی خاندانی مجرمانہ پس منظر سے پورا ملک واقف ہے۔” انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں ہم نے جرم اور مجرموں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے اور یہی پالیسی بہار میں بھی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آر جے ڈی کے رہنما آج بھی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں اور ستامڑھی کے ماں جانکی مندر اور اس کے کوریڈور کے منصوبے کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ سیوان سے آر جے ڈی نے شہاب الدین کے بیٹے اسامہ کو امیدوار بنایا ہے، جہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے امیدوار سے ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے جلسے میں عوام سے اپیل کی کہ وہ “مہاگٹھ بندھن کے جھانسے میں نہ آئیں” اور بہار کو امن، ترقی اور قانون کی بالادستی کے راستے پر قائم رکھیں۔





