راہل گاندھی کی واپسی سے مہاگٹھ بندھن کو نئی جان
راہل گاندھی کی واپسی سے مہاگٹھ بندھن متحرک، تیجسوی کے ساتھ مشترکہ ریلیاں، روزگار و اتحاد پر نیا انتخابی جوش۔
وزیرِاعظم نریندر مودی اور وزیرِاعلیٰ نتیش کمار کی جوڑی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے انتخابی مہم کو عروج پر لے جا رہی ہے، تو دوسری طرف عظیم اتحاد (مہاگٹھ بندھن) کے قائد تیجسوی یادو تنہا ہی انتخابی میدان سنبھالے ہوئے ہیں۔ اب انہیں ایک ایسے سیاسی ساتھی کی ضرورت محسوس ہو رہی اسی تناظر میں راہل گاندھی ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ بہار کے انتخابی منظرنامے میں داخل ہو رہے ہیں۔ 24 ستمبر کو پٹنہ میں کانگریس کی سی ڈبلیو سی میٹنگ کے بعد انہوں نے ریاست سے وقتی دوری اختیار کر لی تھی، مگر اب وہ ایک بار پھر انتخابی مہم میں جوش و خروش سے حصہ لینے جا رہے ہیں۔بدھ سے راہل گاندھی کی مہاگٹھ بندھن کے حق میں انتخابی ریلیوں کا آغاز مظفرپور کے سَکرا علاقے سے ہوگا، جہاں وہ کانگریس کے امیدوار کے لیے عوامی جلسہ کریں گے، اس کے بعد وہ دربھنگہ میں آر جے ڈی امیدوار کے لیے ریلی سے خطاب کریں گے۔ ان کے ہمراہ تیجسوی یادو، ڈپٹی وزیراعلیٰ مکیش سہنی اور دیگر رہنما بھی ہوں گے۔
راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پرینکا گاندھی سمیت کئی مرکزی رہنما بھی ریاست میں انتخابی میدان میں اترنے جا رہے ہیں۔ اگلے دس دنوں میں بھائی بہن کی یہ جوڑی بہار بھر میں لگ بھگ بیس ریلیاں کرے گی تاکہ مہاگٹھ بندھن کے لیے رائے دہندگان کو متحرک کیا جا سکے۔راہل گاندھی کی غیرموجودگی سے گزشتہ مہینے مہاگٹھ بندھن کی مہم میں سست روی آ گئی تھی۔ ان کی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ نے اگرچہ کانگریس کارکنوں میں نئی توانائی پیدا کی تھی، مگر بعد میں قیادت کے خلا نے جوش کو کم کر دیا۔ نتیجتاً کانگریس اور دیگر اتحادی جماعتوں میں اختلافات کے آثار ظاہر ہونے لگے۔
اب راہل گاندھی کی واپسی کے ساتھ ہی اتحاد ایک مرتبہ پھر متحد نظر آ رہا ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابی ریلیوں میں راہل، تیجسوی اور مکیش سہنی ایک ساتھ اسٹیج پر آئیں تاکہ اتحاد کا پیغام عام ہو۔پرینکا گاندھی یکم نومبر سے مہم میں شامل ہوں گی، جبکہ کھڑگے 31 اکتوبر کو گوپال گنج سے اپنی ریلی شروع کریں گے۔ راہل گاندھی تین دن میں 12 سے 14 جلسوں سے خطاب کریں گے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ راہل گاندھی کی فعال شمولیت سے نہ صرف کانگریس کو نئی توانائی ملے گی بلکہ تیجسوی یادو کو ایک مضبوط سہارے کی صورت میں ’انتخابی ساتھی‘ بھی حاصل ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ جوڑی بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت بنانے میں کامیاب ہو پائے گی؟





