بہار انتخابات: مہاگٹھ بندھن کا منشور، نتیش و این ڈی اے برہم
بہار انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کا منشور جاری، نتیش کمار اور این ڈی اے نے وعدوں کو کھوکھلا اور گمراہ کن قرار دیا۔
بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں چند دن باقی ہیں، ایسے میں مہاگٹھ بندھن نے اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے۔ منشور کے اعلان کے فوراً بعد حکمران اتحاد (این ڈی اے) نے اپوزیشن اتحاد پر سخت تنقید شروع کر دی۔وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے مہاگٹھ بندھن کے وزیرِ اعلیٰ کے امیدوار تیجسوی یادو پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ “آج کچھ لوگ نوجوانوں کو سرکاری نوکری اور روزگار کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں، مگر جب پندرہ سال تک ان کی حکومت رہی، تب نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ اُس وقت وہ صرف ریاستی خزانے کو نقصان پہنچانے میں مصروف تھے۔”اسی دوران جنتا دل (یونائیٹڈ) نے بھی تیجسوی یادو کو نشانہ بنایا۔ پارٹی ترجمان نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ “اب تیجسوی نہ پارٹی میں کسی کو برداشت کر پا رہے ہیں اور نہ ہی خاندان میں۔ اُن کی سیاست میں اب ’ایک وہی ہیں، دوسرا کوئی نہیں‘ والی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔”
جے ڈی یو نے مزید کہا کہ جو تیجسوی کبھی اپنے والد لالو پرساد یادو کے نام پر سیاست کرتے تھے، اب ان کے پوسٹروں سے بھی لالو یادو کی تصویر غائب ہے۔دوسری جانب، بی جے پی کے رہنما اور نائب وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے مہاگٹھ بندھن کے منشور کو “کھوکھلے وعدوں کا پلندہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “اس منشور میں کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان وعدوں کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا، بجٹ کیسے بنے گا اور اسکیمیں کیسے نافذ ہوں گی۔”انہوں نے عوام کو یاد دلایا کہ “لالو یادو کے دورِ حکومت میں جو افراتفری اور بدانتظامی تھی، وہ دوبارہ نہیں آنی چاہیے۔”
مہاگٹھ بندھن کے منشور کے اعلان کے بعد بہار کی سیاست ایک بار پھر الزام تراشی اور جوابی بیانات کے دور میں داخل ہو چکی ہے، اور انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔





