راہل گاندھی کا ریلوے انتظامات پر سوال، مسافروں کی پریشانی نمایاں
راہل گاندھی نے بہار جانے والی بھری ٹرینوں پر تنقید کی، حکومت پر ناکامی کے الزامات لگائے، محفوظ سفر کو عوامی حق قرار دیا۔
راہل گاندھی نے دیوالی، بھائی دوج اور چھٹھ جیسے اہم تہواروں کے موقع پر اپنے گھروں کو لوٹنے والے مسافروں کے لیے ریلوے کی جانب سے کیے گئے خصوصی انتظامات پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ریلوے انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ عوام کی سہولت کے لیے ان تہواروں کے دوران خصوصی ٹرینیں چلائی گئی ہیں، لیکن راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ان ٹرینوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور مسافر بھیڑ کے باعث انسانی جان کو خطرے میں ڈال کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تہوار کے موقع پر گھر جانے کی خواہش اب ایک “سنگھرش” یعنی جدوجہد بن چکی ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، ’’بہار جانے والی ٹرینیں پوری طرح سے بھری ہوئی ہیں، ٹکٹ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے اور سفر کی حالت غیر انسانی ہو چکی ہے۔ کئی ٹرینوں میں گنجائش سے دو گنا یعنی دو سو فیصد تک مسافر سوار ہیں، لوگ دروازوں پر لٹک رہے ہیں اور بعض تو چھتوں پر بیٹھ کر سفر کر رہے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈبل انجن حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ کہاں ہیں وہ 12 ہزار خصوصی ٹرینیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا؟ آخر کیوں ہر سال حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں؟ بہار کے لوگ کیوں ہر سال اس قدر ذلت آمیز حالات میں اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ اگر بہار میں روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع دستیاب ہوتے تو لوگوں کو ہزاروں کلومیٹر دور دربدر بھٹکنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ ’’یہ صرف مجبور مسافر نہیں بلکہ این ڈی اے حکومت کی ناکام اور دھوکہ دہ نیتیوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے زور دیا کہ ’’محفوظ اور باعزت سفر عوام کا حق ہے، کسی حکومت کا احسان نہیں۔‘‘دوسری جانب ریلوے کی وزارت کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر کے دوران بہار کے مختلف شہروں کے لیے 2200 خصوصی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ تاہم، زمینی حقائق اور ویڈیوز میں دکھائی جانے والی بھیڑ نے ایک بار پھر اس بات پر بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا حکومت واقعی عوام کی سہولت کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے یا یہ صرف دعوؤں تک محدود ہے۔





