خبرنامہ

انڈین فضائیہ کے سربراہ کی دفاعی منصوبوں میں تاخیر پر شدید تنقید

انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے حال ہی میں دفاعی منصوبوں کی تکمیل میں مسلسل تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دہلی میں منعقدہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جتنا وقت دفاعی ساز و سامان کی تیاری اور فراہمی میں لگ رہا ہے، وہ قومی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کوئی بھی دفاعی منصوبہ وقت پر مکمل ہوا ہو۔ ہمیں ایسے وعدے نہیں کرنے چاہئیں جنھیں ہم جانتے ہیں کہ وقت پر پورا نہیں کر پائیں گے، مگر پھر بھی ہم وہ معاہدے کر لیتے ہیں۔”یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت نے ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر جیٹ بنانے کی منظوری دی ہے، جس کا پہلا پروٹو ٹائپ 2029 میں اور ممکنہ طور پر سیریز پروڈکشن 2035 سے شروع ہوگی۔ اس طرح کے طیارے امریکہ، روس اور چین پہلے ہی بنا چکے ہیں، اور چین تو چھٹی نسل کے فائٹر جیٹ کی بھی آزمائش کا دعویٰ کر چکا ہے۔ ایسے میں دفاعی تیاری میں تاخیر بھارت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔
ایئر چیف مارشل سنگھ کا کہنا تھا کہ نجی کمپنیوں کو دفاعی پیداوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ عالمی معیار کے ہتھیار اور ٹیکنالوجی ملک کے اندر ہی تیار کی جا سکیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ انھوں نے تاخیر پر سوال اٹھایا ہو؛ اس سے قبل بھی وہ ایئر شو سمیت مختلف مواقع پر سرکاری اداروں اور دفاعی تحقیقاتی ادارے ڈی آر ڈی او کی سست رفتاری پر تنقید کر چکے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا دفاعی خریداری کا نظام نہایت پیچیدہ ہے، جس میں کسی بھی منصوبے کے آغاز سے لے کر تکمیل تک 10 سے زائد منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہر منظوری میں چھ سے آٹھ مہینے لگ سکتے ہیں۔ اصولی طور پر منصوبہ تین سال میں مکمل ہونا چاہیے، لیکن حقیقت میں ان پر سات سے دس سال لگ جاتے ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور پرانی ٹیکنالوجی بےکار ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت نے 2007 میں روس کے ساتھ ففتھ جنریشن فائٹر طیارہ بنانے کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ شروع کیا تھا، جس پر تقریباً 240 ملین ڈالر بھی خرچ کیے گئے، لیکن 2018 میں بھارت اس منصوبے سے الگ ہو گیا۔ تجزیہ کار سوشانت سنگھ کے مطابق اگر بھارت اس منصوبے میں شریک رہتا تو آج اس کے پاس سٹیلتھ فائٹر ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فضائیہ کے چیف بار بار دفاعی کمزوریوں کی نشاندہی کر رہے ہیں تو حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ بروقت قدم اٹھاتی۔سنگھ نے کہا کہ یوکرین جیسے ملک نے ایک سال میں 40 لاکھ ڈرونز تیار کر لیے جب کہ بھارت شاید ایک ہزار بھی نہ بنا رہا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کی طرف کم ہوتی توجہ، اور معیاری افراد کا ملک سے باہر جانا، بھارت کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پہلے بھارت میں ‘ماروت’ جیسے جنگی طیارے تیار کیے جاتے تھے، مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔
رافال طیاروں کی خریداری کی مثال دیتے ہوئے ماہر راہل بیدی کہتے ہیں کہ اس معاہدے میں بھی تقریباً دس سال کی تاخیر ہوئی۔ 2007 میں بات چیت شروع ہوئی، 2016 میں معاہدہ طے پایا اور 2018 میں پہلا طیارہ ملا۔ ان کے مطابق نظام میں تاخیر کی بنیادی وجہ سیاسی ہے، نہ کہ صرف سرکاری کمپنیوں کی ناکامی۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دفاعی منصوبوں میں نجی شعبے کو شامل کرنا ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن فوری فائدے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی کیوں کہ ان کے پاس جنگی طیاروں جیسے پیچیدہ نظام بنانے کا تجربہ کم ہے۔ موجودہ حالات میں بھارت کو فوری طور پر جدید سٹیلتھ طیارے، ایڈوانسڈ وارننگ سسٹم اور دیگر ساز و سامان بیرونِ ملک سے حاصل کرنا ہوگا تاکہ اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ کو امید ہے کہ جو سٹیلتھ فائٹر 2035 میں تیار ہو کر سامنے آئے گا، وہ اس وقت کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہو گا۔ لیکن اس امید کو حقیقت بنانے کے لیے نہ صرف تکنیکی قابلیت بلکہ حکومتی سنجیدگی اور پالیسی میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ تاخیر کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، بھارت کو اپنی دفاعی تیاری میں تیزی لانے کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر