سیاسی بصیرت

   جامعہ میں طلبا یونین سے خوف کیوں؟

شعیب رضا فاطمی

بیس برس سے جمہوری حق سے محروم طلبا کا بھوک ہڑتال بھی برداشت نہیں!
جمہوری اقدار کی بحالی کے لئے جس طرح دہلی سمیت پورے ملک میں نوجوانوں کا سیلاب امڈ رہا ہے اس کو دیکھ کر بھی موجودہ حکومت کی نیند کیا کھلےگی اس کی انتظامیہ نے طلبا سے بار بار اور جگہ جگہ پنگا لینے کا اسائنمنٹ سائن کر لیا ہے ۔ابھی چند روز پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبا کی تحریک کے آگے یونیورسٹی انتظامیہ نے گھٹنے ٹیکے ہیں اور وہاں نومبر میں انتخاب کا اعلان ہوا ہے لیکن پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا یونین کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے پانچ طلبا کو 17 اکتوبر کی صبح ساڑھے پانچ بجے کیمپس سے ہٹا دیا گیا۔ یہ محض چند احتجاجی طلبا کو ہٹانے کا معاملہ نہیں، بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر مرکزی سرکار اور جامعہ کی انتظامیہ کو طلبا کی جمہوری آواز سے اتنا خوف کیوں ہے؟
2006 سے جامعہ میں طلبا یونین کے انتخابات نہیں ہوئے۔ دو دہائیوں سے طلبا اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حق سے محروم ہیں۔ اب جب پانچ طلبا نے اس حق کی بحالی کے لیے بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کیا تو ان کے مطالبات سننے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے انہیں کیمپس سے ہٹا دیا گیا۔ کیا یہی ایک تعلیمی ادارے کا جمہوری رویہ ہے؟
طلبا کا مطالبہ کوئی ناقابلِ فہم سیاسی ایجنڈا نہیں۔ وہ ایک منتخب یونین چاہتے ہیں تاکہ فیس، داخلوں، ہاسٹل اور دیگر تعلیمی مسائل پر انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کر سکیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انتظامیہ کے فیصلے درست اور طلبا کے مفاد میں ہیں تو اسے ایک منتخب طلبا یونین سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی میں طلبا یونین کے انتخابات ہوتے ہیں۔ وہاں مختلف طلبا تنظیمیں انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہیں، طلبا کے مسائل اٹھاتی ہیں اور انتظامیہ سے سوال کرتی ہیں۔ اگر یہ جمہوری عمل ان جامعات میں ممکن ہے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کیوں نہیں؟ کیا جامعہ کے طلبا کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں؟ یا یہاں جمہوریت کے اصول انتظامیہ کی مرضی کے تابع ہیں؟
جامعہ کی انتظامیہ اور مرکزی حکومت کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔ جامعہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے، اس لیے اس کے انتظامی معاملات میں حکومت کی ذمہ داری اور پالیسی کا سوال بھی اہم ہے۔ تاہم، انتخابات کی عدم بحالی کے اسباب اور متعلقہ فیصلوں کو سامنے لائے بغیر کسی ایک فریق کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہوگا۔ لیکن بیس برس کی تاخیر پر جواب طلب کرنا ہرگز ناجائز نہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد آزادی کی تحریک کے دوران رکھی گئی تھی۔ یہ ادارہ فکری آزادی، قومی شعور اور خودداری کی علامت رہا ہے۔ افسوس کہ آج اسی ادارے کے طلبا کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کرنا پڑ رہی ہے۔ اگر ایک یونیورسٹی اپنے طلبا کو جمہوری حقوق دینے سے گریز کرے تو پھر وہ انہیں جمہوریت کا سبق کس اخلاقی بنیاد پر پڑھائے گی؟ یہ دلیل بھی ناقابلِ قبول ہے کہ طلبا سیاست سے تعلیمی ماحول خراب ہو سکتا ہے۔ اگر انتخابات میں بے ضابطگی یا نظم و ضبط کا مسئلہ ہے تو ضابطے بنائے جائیں، شفاف انتخابی نظام قائم کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انتخابی عمل کی خامیوں کا علاج انتخابات بند کرنا نہیں، بلکہ انہیں شفاف اور منصفانہ بنانا ہے۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبا کو ہٹانے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ طلبا سے مذاکرات کرے، ان کے مطالبات پر اپنا مؤقف واضح کرے اور یونین کی بحالی کے لیے مقررہ مدت کے ساتھ لائحۂ عمل پیش کرے۔ محض خاموشی، انتظامی کارروائی یا غیر معینہ یقین دہانیوں سے اس مسئلے کو مزید نہیں ٹالا جا سکتا۔ بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہےکہ آخر جامعہ میں طلبا یونین کی بحالی سے کس کو خوف ہے؟
جمہوریت اگر صرف عام انتخابات کے دنوں میں یاد آنے والا نعرہ ہے تو اس کی کوئی معنویت نہیں۔ جمہوریت کا اصل امتحان یہ ہے کہ طاقت ور ادارے اپنے سامنے اٹھنے والی اختلاف کی آواز کو کس طرح برداشت کرتے ہیں۔ جامعہ کے طلبا کو خاموش کرنے کے بجائے ان کے سوالوں کا جواب دیا جانا چاہیے۔
بیس برس کسی بھی جمہوری حق کو مؤخر رکھنے کے لیے بہت طویل مدت ہے۔ اب جامعہ کی انتظامیہ اور حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ طلبا کو ان کی منتخب نمائندگی کا حق دیں گی یا انہیں مزید انتظار پر مجبور رکھیں گی۔
جامعہ میں طلبا یونین کی بحالی بھی ایک جمہوری عمل ہے۔جامعہ انتظامیہ اور خاص طور پر مرکزی حکومت کو طلبا کے سوالوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے ان کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ جس تعلیمی ادارے میں سوال کرنے والوں کو جگہ نہ ملے، وہاں جمہوریت کا درس محض ایک کھوکھلا دعویٰ بن کر رہ جاتا ہے۔فی الوقت ملک میں جگہ جگہ جو احتجاج کا ماحول بن چکا ہے اس کی جڑ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا وہ جملہ ہے جس میں انہوں نے انہیں کاکروچ کہا تھا ،اور دیکھتے ہی دیکھتے رعونت میں بولے گئے اس ایک جملہ نے پورے ملک کے نوجوانوں کو مشتعل کر دیا ۔مرکزی سرکار کو اس سلسلہ میں سنجیدہ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ورنہ اگر کاکوچ سمجھے جانے والے ان طلبا کو سنبھالنا بہت مشکل ہو جائیگا اور سرکار کو ایک بار پھر ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑینگے ۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں