سیاسی بصیرت

اس’ سفاکیت ‘پر تو قابو پانا ہی ہوگا

ودود ساجد

یمن کے مسلح باغیوں (انصار اللہ /حوثی) اور حکومت سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کا قضیہ ایک دہائی پرانا ہے۔ لیکن اس وقت جو مناقشہ جاری ہے متعدد جائزوں‘ تبصروں اور رپورٹوں کی روشنی میں اس کی ابتدا کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں نسبتاً مختلف غیر جانبدارمیڈیا پلیٹ فارموں پر موجود 40 ہزار الفاظ پر مشتمل 18 تفصیلی مضامین کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کئی برسوں سے جاری قدرے پر سکون ماحول کو حوثیوں نے پھر آگ اور خون کے حوالے کردیا ہے۔
سعودی میڈیا کی روایت ہے کہ وہ اس طرح کے مناقشات کی کوئی تفصیل یا خبر شائع نہیں کرتا۔ لیکن 20 جولائی 2026 کو “سعودی گزٹ” نے اس قضیہ پر ایک مختصر رپورٹ شائع کی تھی۔ اقوام متحدہ کے مختلف بیانات اور ایک سے زائد قراردادیں اس رپورٹ میں بیان کردہ پانچ میں سے چار حقائق کی تصدیق کرتی ہیں۔ الجزیرہ‘ واشنگٹن پوسٹ‘ وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز میں شائع 17 تفصیلی مضامین اور جائزے بھی سعودی عرب کے موقف کے بعض نکات کی تصدیق کرتے ہیں۔ 20 جولائی کو ہی حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ باب المندب میں سعودی عرب کا بحری محاصرہ کرنے جارہے ہیں۔ اس قضیہ کو انتہائی غیر جانبدار ہوکر سمجھنا آسان نہیں ہے لیکن مذکورہ مضامین اور رپورٹیں قدرے غیرجانبدار‘ مستند اور معتبر معلوم ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس قضیہ کو سمجھنے کیلئے کوئی اور اطمینان بخش ذریعہ ہے بھی نہیں۔۔۔
پچھلی ایک دہائی کے دوران دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان ایک سفاک گروہ کے طور پر حوثیوں کی جو شبیہ بن گئی تھی اس شبیہ کو آٹھ اکتوبر 2023 کے واقعات نے کسی قدر دھونا شروع کردیا تھا۔ حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ پر قتل وخون کی بارش کردی تھی۔ اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں میں حزب اللہ کے ساتھ ساتھ حوثیوں نے بھی حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ مسلمانوں کیلئے فلسطین کا قضیہ سب سے اہم ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ گروہ بھی اہم ہے جو اسرائیل کو محدود سطح پر ہی سہی پسپا کردے۔
غزہ اور اس کے بعد ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے دوران حوثیوں نے بحرالاحمر میں امریکہ اور اسرائیل کے مال بردار جہازوں پر حملے کرکے صورتحال کو بدل دیا تھا۔ آخرکار امریکہ نے چھ مئی 2025 کو اومان کی ثالثی میں حوثیوں کے ساتھ ’جنگ بندی‘ کرلی تھی۔ لیکن حوثیوں یہ اعلان کردیا تھا کہ اسرائیل یا اس سے متعلق کسی بھی جہاز کو نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن 12 ستمبر 2026 کو مسقط میں امریکی سفارت خانہ میں حوثیوں اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو میں حوثیوں نے امریکی جہازوں پر تو حملے نہ کرنے کے عہد کا اعادہ کیا ہی ساتھ ہی اب اسرائیل کے خلاف بھی حملے بند کرنے کا اعلان کردیا۔ روئٹر نے حوثیوں کے ذرائع کے حوالہ سے بتایا تھا کہ اس میٹنگ میں حوثیوں نے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے جہازوں کو نہیں بخشیں گے۔
حوثیوں کے اس اعلان کی آخر کیا توجیہ ہوسکتی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے جہازوں کو تو ہاتھ نہیں لگائیں لیکن سعودی عرب کے جہازوں کو نہیں چھوڑیں گے؟ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کو امریکہ اور اسرائیل آگے بڑھا رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی شدید خواہش ہے کہ سعودی عرب ’معاہدہ ابراہیمی‘ پر دستخط کرکے اسرائیل سے رشتے استوار کرلے تاکہ عالم عرب میں اسرائیل کے ناجائز وجود کو جواز مل جائے۔ ایران نے کبھی اس کی تردید نہیں کی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف حوثیوں‘ حماس اور حزب اللہ کو اخلاقی‘ مادی اور عسکری کمک پہنچا رہا ہے۔ لہٰذا یہ بھی سمجھا گیا کہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کے پیچھے ایران بھی ہوسکتا ہے۔ عالم اسلام نے جب ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے کرنے سے باز رکھے تو حوثیوں نے اعلان کردیا کہ ہم کسی کے تابع نہیں ہیں۔
سعودی عرب نے بار بار کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ایران سے سفارتی مراسم توڑے نہیں ہیں۔ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ کون کسے استعمال کر رہا ہے لیکن حوثیوں کے اعلانات اور اقدامات سے یہ تو واضح ہے کہ ان کے نزدیک امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے سعودی عرب زیادہ قابل نفرت ہے۔ انہوں نے سعودی عرب پر تازہ نشانہ یہ کہہ کر لگایا تھا کہ اس کی مداخلت کی وجہ سے یمن میں لوگوں کو بھکمری کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے وضاحت کی تھی کہ اس نے کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ اس سال کے نصف اول میں امدادی اشیاء سے بھرے ہوئے 300 کمرشیل جہاز یمن کے بحری اڈوں’العدیدہ‘ السالف اور راس عیسی‘ پر بھیجے تھے۔ ان میں تعمیراتی ساز و سامان کے علاوہ اشیائے خورد و نوش‘ ایندھن اور ادویات بھی تھیں۔ سعودی عرب کا دعوی ہے کہ یہ سب کچھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2216 کے مطابق ہی کیا جارہا ہے۔
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اب سعودی عرب کے خلاف جاری حوثیوں کے حملوں پر امریکہ اور اسرائیل کو کوئی تشویش نہیں ہے۔ لہذا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب پر کچھ حملے امریکہ اور اسرائیل نے بھی کئے ہوں۔ الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق 20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی عرب کے بحری محاصرہ کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے ان کی راجدھانی’صنعا‘ کے ایرپورٹ پر حملہ کیا ہے۔ جبکہ یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے اس حملہ کی ذمہ داری خود قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ ایران کے اس جہاز کو اترنے سے روکنے کیلئے کیا گیا تھا جس میں باغیوں کیلئے ہتھیار بھیجے جارہے تھے۔ لیکن حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا ایرپورٹ پر حملہ کردیا۔
تو کیا اس منطق کے اعتبار سے حوثیوں کے حملوں کے جواب میں سعودی عرب کو ایران پر حملہ کردینا چاہئے؟ سعودی عرب کے مطابق حوثیوں نے 2020 میں عدن پورٹ اور جنوبی یمن میں آئل ایکسپورٹ ٹرمنلس پر حملہ کیا تھا۔ 2022 میں انہوں نے یمنی ایرویز کے چار جہازوں پر قبضہ کرنے کے علاوہ بحرالاحمر میں سعودی جہازوں پر بھی حملے کئے تھے۔ سعودی عرب کا دعوی ہے کہ وہ یمن میں امن قائم کرنے کی اقوام متحدہ کی کوششوں میں تعاون کر رہا ہے۔ وہ عالمی برادری پر اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2216 اور 2722 کے نفاذ کی عملی کوششیں کرنے پر بھی زور دیتارہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بحرالاحمر میں ’انٹرنیشنل میری ٹائم‘ قانون اور 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق اپنے جہازوں کی حفاظت کرنے کاحق رکھتا ہے۔
سعودی عرب سمجھتا ہے کہ باغی حوثیوں کی سرگرمیوں کے سبب اس کی اندرونی سلامتی کو خطرہ ہے۔ وہ اسی لئے وہاں کی اس حکومت کا تعاون کرتا ہے جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔ یمن کے بڑے حصہ پر حوثیوں کا تسلط ہے‘ یہاں تک کہ یمن کے روایتی دارالحکومت ’صنعاء‘ پر بھی اسی کا قبضہ ہے۔ یمن میں ایک اور مسلح باغی جماعت ہے جو حکومت کی بھی مخالف ہے اور حوثیوں کی بھی۔ اس گروپ کو متحدہ عرب امارات کمک پہنچاتا ہے۔ اس سلسلہ میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان پچھلے دنوں عسکری کشمکش بھی ہوچکی ہے۔
پچھلے ہفتہ ریاض ایرپورٹ پر حملہ کس نے کیا وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اس حملے میں 12 احرام پوش زائرین حرم شہید اور 300 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ حوثی مسلسل مزید حملوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ کیا واقعی حوثی اتنے سنگدل‘ بددین اور سفاک ہیں کہ حرمین اور زائرین کی پروا کئے بغیر حملے کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کو اس سلسلہ میں بہت زیادہ محتاط ہوکر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت سعودی عرب مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن سعودی حکمرانوں کا ضبط و تدبر اس قضیہ کو مکمل جنگ میں بدلنے سے روکے ہوئے ہے۔ ترکی‘ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا مکہ معاہدہ فی الحال اس قضیہ سے نپٹنے کا اہل نہیں ہے۔ میں اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ ایران اور سعودی عرب اگر سفارتی طور پر اسی طرح متحد رہیں تو وہ ایک ایسی قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں جو مشرق وسطی کا نقشہ بدل کر رکھ دے۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے موجودہ مناقشہ کو بھی ایران اور سعودی عرب ہی مل کرحل کر سکتے ہیں۔۔۔
بیشتر عالمی مبصرین اس تجزیہ پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد حوثی بحر احمر کے ذریعہ سعودی عرب کو بلیک میل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں آگئے ہیں اور یہ صورتحال 43 فیصد عالمی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔ عملاً دنیا اس نقصان کی زیادہ عرصہ تک متحمل نہیں ہوسکتی۔ گوکہ سعودی عرب اپنی سپلائی کے دوسرے متبادل راستے وضع کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم بحرالاحمر کو زیادہ دنوں تک بند نہیں رکھا جاسکتا۔ اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے سعودی عرب اپنے دیگرعلاقائی اتحادیوں کے ساتھ اپنے مراسم اور مضبوط بنارہا ہے۔ ایران کیلئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کو درست کرے اور سعودی عرب کے ساتھ دیرپا مراسم کو مضبوط کرنے کیلئے حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے انہیں جارحانہ حملوں سے باز رکھے۔ بہ حیثیت ملک ایران کو سعودی عرب سے رشتے قائم رکھنے میں جو دور رس فائدہ ہے وہ مسلح باغی جماعتوں سے رشتے رکھنے میں نہیں ہے۔
ملکوں کے درمیان رشتے دو طرفہ فائدہ پہنچاتے ہیں جبکہ حوثیوں کے محاذ پر ایران کو یکطرفہ طور پر ہی اپنا سرمایہ لگانا پڑ رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایران کو امریکہ‘ اسرائیل اور دوسرے علاقائی عوامل گھیرے ہوئے ہیں سعودی عرب جیسی اقتصادی قوت کا کمزور ہونا اس کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔ ترکی اور پاکستان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ کسی مرحلہ پر ایران اور قطر بھی مکہ معاہدہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو امریکہ اور اسرائیل کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ ایسے میں سعودی عرب پر حوثیوں کی مسلسل جارحیت کا مطلب امریکہ اور اسرائیل کی مضبوطی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ ایران اور سعودی عرب کو اس نکتہ کا بھرپور ادراک ہے۔ اسی لئے دونوں ملک ایک دوسرے سے سفارتی رشتے نہیں توڑ رہے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں دونوں ملکوں کے درمیان کئی بار گفتگو بھی ہوئی ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں