شناخت

سرسید، مذہبی رہنما، جدیدسیکولر تعلیم اور مسلمان

غلام علی اخضر

ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی، فکری اور معاشی پسماندگی نے جسے سب سے زیادہ متفکراور بے چین کیا،وہ روشن خیال مدبر سرسیدکی ذات ہے۔ آج جس قدر بھی مسلم قوم اعلیٰ تعلیم سے آشنا اور آراستہ و پیراستہ ہورہی ہے یا ہے وہ اسی محسن قوم کی جدو جہد اور انتھک کوششوں کا ثمرہ ہے۔ اس رہبر نے قوم کی تعمیرو ترقی اور تشکیل نو کے لیے اپنی زندگی کے تمام آرام و آسائش کو تیاگ دیا لیکن افسوس ہے کہ اسی قوم نے ان کی حیات میں جس حدتک ایک انسان کی دل شکنی ہوسکتی تھی،کی اورجس حدتک بُرا بھلاکہاجاسکتا تھا، کہا۔اس کے باوجود یہ مرد مجاہد اپنے کام میں ثابت قدم رہا۔ خالق کائنات نے اسے کتنی دور اندیشی کی دولت سے نوازا تھا،اس کا اندازہ لگانامشکل ہے۔وہ ایک سچے محب وطن ہونے کے ساتھ قوم پرست اور قومی یکجہتی کے پیامبرتھے۔
یوں توابتدا سے ہی سرسید کو مسلمانوں اور ہندوستانیوں کی زبوں حالی پریشان کر رہی تھی مگر انگلستان کے سفر نے اس پر اوربھی ضرب کاری کاکام کیا۔ مسلمان جس قدامت پسندی اور فرسودہ رہ و رسم کو اپنی کامیابی کا مینارہ سمجھتے تھے، سرسید کے جہاں دیدہ، اعلیٰ سوچ اور سائنٹفک ذہن نے بھاپ لیاتھا کہ سب سے زیادہ وہی اس کی ترقی اور کامیابی کی راہ کا کانٹا ہے۔ اس کی اصلاح کے لیے انھوں نے میگزین جاری کیا۔ جگہ جگہ بیداری مہم چلایا۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سرسید مشرقی تعلیم کے مخالف تھے حالاں کہ یہ کسی طورپر بھی صحیح نہیں بلکہ سرسید مشرقی اور مغربی دونوں پر مشتمل تعلیم کے حامی تھے، کیوں کہ انھیں اس بات کا اندازہ ہوچکا تھا کہ مشرقی تعلیم سے ایک حدتک مذہبی اور سماجی قدروں کی سینچائی تو ہوسکتی ہے لیکن سیاسی یا معاشی ترقی سیکولراور جدید تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس لیے انھوں نے ایک ایسے دانش کدے کی بنیاد ڈالنے کی کمر کس لی جہاں مشرقی اور جدیدتعلیم دونوں ایک صف میں ہوں، جس کے ذریعے مسلمانوں میں قابلیت پیدا ہو اور وہ سرکاری عہدوں سے فائدہ اٹھا سکیں اور ساتھ ہی اپنے مذہبی اور تہذیبی ورثے کا ترجمان بھی ہوں ۔مطلب یہ ہے کہ دین اور دنیا شانہ بشانہ رہے۔ اگر ایک ہاتھ میں قرآن ہو تو دوسرے ہاتھ میں سائنس۔ لیکن اس قوم نے اس تحریک اور کوشش کا استقبال کس طرح کیا ،اس کا اندازہ اس کی تاریخ اور اس دور کے طالب علموں کی تعداد مع ذات پر مبنی رپورٹ کی ورق گردانی سے کیا جاسکتا ہے۔ ہم یہاں بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ حصول تعلیم میں ہندوبھائیوں کے مقابل مسلمانوں کی تعداد مایوس کن تھی۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے اور جس کا اثر آج بھی جاری ہے؟ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ اسلام نے تعلیم حاصل کرنے سے متعلق اپنا نظریہ واضح طور پر پیش کردیا کہ ’’علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘،لیکن افسوس کہ اس کے ساتھ لفظ’دین‘کا بھی اضافہ کردیا۔ یہ صرف ایک اضافہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے مستقبل کافیصلہ تھاجو زہر ہلاہل ثابت ہوااورمسلمانوں کومزید بربادی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا۔ یعنی مسلمان روز بروز صرف مذہبی تعلیم تک خود کومحدود کرتے چلے گئے اور حالت یہ ہوئی کہ وہ مذہبی تعلیم جو معرفت حاصل کرنے کا سرچشمہ تھا اس سے دنیا حاصل کیا جانے لگا۔جسے تعلیم و ترقی میں پیشوائی کرنا تھاوہ محض مقتدی ہوکررہ گیا۔ علم سیکھنا فرض تو بتادیا گیا مگر اس کا ہماری زندگی میں معاشرتی ، معاشی اور سیاسی طور پر کیا صحیح کردار ہے، اس پر جس قدر بحث ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہوئی۔ مسلمانوں کو ان کے پیشوائوں نے اس حدتک اپنی مذہبی تعلیم کے تئیں سخت اور شدت پسند بنادیاکہ وہ سیکولر تعلیم کو حاصل کرنا گناہ عظیم سمجھنے لگے۔ جس کا مضر اثر یہ ہواکہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ بے بسی، بے چارگی اور مورکھوں کی زندگی بسرتو کرسکتاتھا لیکن وہ سماجی تبدیلی اور جدید طرز زندگی کے لیے ہرگز تیار نہ تھا ، جس کی وجہ سے انھیں کبھی بھولے سے بھی یہ خیال نہ آیاکہ جدید تعلیم ان کے حالات اور ان کے معاشرے میں انقلاب لاسکتی ہے۔ جس سے وہ بھی اقوام عالم کی صف میں سربلند ہوکر کھڑے ہوسکے گا۔ نہ جانے جدید تعلیم کو کیوں اس قدر نظرانداز کرگیا جب کہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان مدرسوں سے ہی دنیا میں بڑے بڑے دانشور، مؤرخ اور سائنسداں جنم لیے۔ اسی ہندوستان میںوہ دور بھی تھا کہ جدید تعلیم بھی مدرسوں میں ہی پڑھائی جاتی تھی۔ لیکن انگریزوںکی یہ پالیسی کہیں یاہمارے نااہل رہنمائوں کی کارستانی کہ دونوں تعلیم کے لیے الگ الگ مراکز بن گئے ۔اب مدارس کو مذہبی تعلیم کا پاسبان بنا دیا گیا جہاں سے معاشرے کی تعمیر کم اور مسلکی فرقہ بندی کازہر زیادہ پھیلا،جس سے مسلمان ٹکڑوں میں بٹتے چلے گئے اور دن بدن مسلمانوں کی اتحادی اور فنی طاقت دگرگوں ہوتی چلی گئی۔ جب کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں حیران کن مدارس کا اضافہ ہوا۔ آج کا مسلمان صرف سیاسی اور دورخی رویے کو ہی اپنی پسماندگی کی وجہ گردانتا ہے۔دوخی رویہ ؟ تو اس سے ہمیں بھی انکار نہیں ہے مگر اس سے کہیں زیادہ مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ خود اس کا ذمے دار ہے۔ یہ اقوام عالم کا کڑوا سچ ہے کہ جو طبقہ جہاں اقلیت میں ہے وہاں اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ سوتیلا پن ہوتا ہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ جد و جہد نہ کرے اور صرف اپنی بربادی کا ٹھیکرا دوسرے کے سر پھوڑتے رہے ۔ایک زمانہ تھا کہ امریکہ میں اقلیتوںکو حد سے زیادہ سماجی اور مذہبی تعصب کا سامنا تھا مگر اس قوم نے خود کو ہارنے نہ دیا اور حالات کا سامنا کرنے اورخودکوقابل بنانے کے لیے جہدمسلسل میں لگ گئی۔ پھر اس نے اپنے اندر وہ لیاقت پیدا کی کہ وہ وہاں کے اہم طبقے میں حصہ بنانے میں کامیاب ہوئی:
مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے
چمن میں دیدہ وری کے لیے مالی کیا کچھ نہیں کرتا ۔سونے کو چمک دار ہونے کے لیے آگ میں جلنا پڑتاہے۔ آج مسلمانوں میں سب سے بڑی بیماری یہ ہے کہ خود اپنی کاہلی اورگرداب کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ صرف یہ رونا ہے کہ مسلمانوں کو سرکاری نوکری نہیں ملتی۔ پہلے آپ خود اس لائق تو بنیں! آپ کے تعلیمی معیار کا یہ حال ہے کہ 2006کی سچر کمیٹی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ’’مسلمانوں کی تعلیمی حالت T۔Sاور C۔S سے بھی بدتر ہے‘‘۔ 2011کی مردم شماری اور تعلیمی شرح پر نظر ڈالیں تو مسلمان: 57.3-عیسائی:74.73-بدھسٹ:71.8-سیکھ:67.3جب کہ یہ تمام کمیونٹیاں اقلیتی ہیں اور آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی ہے لیکن سب زیادہ ناخواندگی انھیں کی نصیب میں ہے۔ جب کہ سرسید جس دور میں مسلمانوں اور ہندوستانی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں تھے ،آج کے مدمقابل حالات اورسنگیں تھے لیکن آج ہم ایک آزاد حکومت میں رہنے کے بعد بھی بدسے بدترین حالت میں ہیں۔ کسی قوم کو ذلیل و خوار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کے درمیان سے علم اٹھ جائے۔ آج پھر ضرورت ہے کہ ہم سرسید کی طرح اپنی قوم کی کامیابی کے لیے کوششیں کریں ان میں تعلیمی بیداری پیدا کریں۔ صرف زبانی دیوانۂ سرسید کہلانے سے کچھ نہیں ہونے والا۔یہاں میں یہ بھی واضح کردوں کہ سرسید کو لے کر اکثر مذہبی ہو کہ غیر مذہبی ناقدان کے اعمال اور عقائد کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ کوئی تو سرے سے ان کے مذہبی متنازعہ افکارو نظریات کو امنا وصدقنا کہہ کر انھیں ہر طور سے معصوم گردان دیتا ہے تو کوئی ان کے ان متنازعہ خیالات کی وجہ سے ان کی تعمیری اور ملی کام کو بھی نظرانداز کردیتا ہے۔ آج بھی سرسید پر دیانتداری کے ساتھ کام کرنے کا حصہ تشنہ ہے۔ ہم اس کو صاف لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو طرفتدارہیں توان غلطی کو پس پشت ڈاک کر اندھی عقیدت میں غرق ہیں اور جونہیں، تو شمشیر بے نیام۔خیر! کوئی اس بات سے انکار نہیں کرسکتا ہے کہ سرسید ہندی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے محرک اعظم ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

شناخت

مبلغ اسلام حضرت علامہ محمد عبد المبین نعمانی مصباحی— حیات وخدمات

از:محمد ضیاء نعمانی مصباحی متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشرے کی کامیابی اور قوم
شناخت

فضا ابن فیضی شخصیت اور شاعری

17 جنوری آج مشہور معروف شاعر فضا ابن فیضی کا یوم وفات ہے فیض الحسن فضا ابن فیضی یکم جولائی