سیاسی بصیرت

پریم چند کی پتھر توڑتی عورت سے جنتر منتر کی نیہا بورا تک

شعیب رضا فاطمی

ادب جب زندگی سے کٹ جاتا ہے تو لفظوں کی آرائش بن کر رہ جاتا ہے،لیکن جب زندگی کی تلخیوں،محرومیوں،ناانصافیوں اور انسانی جدوجہد سے رشتہ جوڑ لیتا ہے تو تاریخ کا دھارا بدلنے کی قوت پیدا کر لیتا ہے۔ ترقی پسند ادبی تحریک (PWA) کی سب سے بڑی دین یہی تھی کہ اس نے ادب کو خواب گاہوں سے نکال کر زندگی کی شاہراہوں پر لا کھڑا کیا۔ اس نے حسن کے ان تصورات کو چیلنج کیا جن میں چاندنی راتیں تو تھیں، لیکن بھوکے انسان کی آہیں نہیں ،محبوب کی زلفیں تو تھیں، لیکن مزدور کے پسینے کی چمک نہیں ،گل و بلبل کے قصے تو تھے، لیکن اس عورت کی زندگی کا کوئی ذکر نہیں تھا جو سڑک کے کنارے پتھر توڑتے ہوئے اپنی زندگی کے دن بھی پتھروں کی طرح توڑ رہی تھی۔ترقی پسند تحریک نے حسن کو دیکھنے کے زاویے بدل دیے۔ اس نے بتایا کہ حسن صرف وہ نہیں جو آنکھوں کو بھلا لگے، حسن وہ بھی ہے جو ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ حسن محض جسم کی دل آویزی کا نام نہیں، عزم کی سربلندی، کردار کی عظمت، حوصلے کی استقامت اور ظلم کے سامنے سینہ سپر ہو جانے کا نام بھی ہے۔1936 میں لکھنؤ کے تاریخی اجلاس میں پریم چند کی صدارت اور ان کے صدارتی خطبے نے اسی نئے ادبی شعور کو ایک واضح سمت عطا کی۔ پریم چند نے حسن کے مروجہ معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اس عورت کی طرف توجہ دلائی جو سڑک کے کنارے پتھر توڑتی ہے۔ ان کے تصور میں اس محنت کش عورت کا پسینے سے تر چہرہ بھی حسن کا ایک ایسا پیکر تھا جسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں نہیں، ایک زندہ دل اور بیدار ضمیر بھی درکار ہے۔ آج، تقریباً ایک صدی بعد، پریم چند کی وہ پتھر توڑتی عورت مجھے پھر نظر آئی ہے۔ وہ کسی افسانے کا کردار نہیں، کسی مصور کے کینوس پر ابھرتی ہوئی تصویر نہیں، نہ ہی کسی شاعر کے تخیل کی پیداوار ہے۔ وہ جنتر منتر اور اس کے آس پاس کی سیاسی فضا میں اپنے عزم، اپنی جدوجہد اور اپنی بے خوفی کے ساتھ موجود ہے۔ اس کا نام نیہا بورا ہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ نیہا بورا کس سیاسی نظریے سے تعلق رکھتی ہے، وہ بائیں بازو کی ہے یا دائیں بازو کی، اس کی سیاسی وابستگیاں کیا ہیں اور اس کے نظریاتی اختلافات کن لوگوں سے ہیں۔ میرے لیے اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی عورت کی شبیہ ابھرتی ہے جو حالات کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ان سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ جو سیاست کے پتھر ہو چکے ضمیر کو اپنی آواز، اپنی محنت اور اپنے عزم کے ہتھوڑے سے ضرب لگانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
یہاں سوال کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں، بلکہ اس عورت کی قوتِ ارادی کا ہے جو اپنے وجود کو محض تماشائی بنائے رکھنے سے انکار کر دیتی ہے۔ جو یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ سیاست کے میدان صرف مردوں کے لیے مخصوص ہیں، فیصلے کرنے کا حق صرف طاقت ور طبقوں کو حاصل ہے اور عام عورت کا مقدر محض خاموشی، اطاعت اور تماشائی بن کر رہ جانا ہے۔
نیہا بورا کی جدوجہد میں مجھے فاطمہ شیخ کی تعلیمی جدوجہد کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ مجھے ساوتری بائی پھولے کی وہ استقامت یاد آتی ہے جس نے عورتوں کی تعلیم کے راستے میں کھڑی سماجی دیواروں کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے اپنے عہد کی تنگ نظری، سماجی تعصب اور مخالفت کے باوجود اپنے مقصد سے منہ نہیں موڑا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عورت کی آزادی کسی کی عطا کردہ رعایت نہیں، بلکہ اس کا بنیادی انسانی حق ہے، اور اس حق کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنا اس کے وجود کی توہین نہیں، اس کی عظمت کا اعلان ہے۔یہ سلسلہ فاطمہ شیخ اور ساوتری بائی پھولے تک محدود نہیں۔ تاریخ کے ہر دور میں ایسی عورتیں پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے اپنے حصے کی تاریکی سے لڑ کر دوسروں کے لیے روشنی پیدا کی۔ کسی نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا، کسی نے سماجی جبر کے خلاف آواز اٹھائی، کسی نے سیاسی اقتدار کو چیلنج کیا اور کسی نے محض اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق مانگ کر پورے معاشرے کے سامنے ایک سوال کھڑا کر دیا۔ ان عورتوں کی عظمت اس میں نہیں تھی کہ وہ کسی خاص نظریے کی نمائندہ تھیں، بلکہ اس میں تھی کہ انہوں نے اپنے عہد کی ناانصافی کو معمول سمجھ کر قبول کرنے سے انکار کیا۔ ان کی جدوجہد کا اصل حسن ان کے چہروں میں نہیں، ان کے کردار میں تھا، ان کے لباس میں نہیں، ان کے حوصلے میں تھا؛ ان کے نعروں میں نہیں، ان نعروں کے پیچھے کھڑی قربانیوں میں تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مجاز لکھنوی کا شعر پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے:
تمہارے سر پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تم اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
مجاز کا یہ شعر عورت کے آنچل کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کی قوت کو ایک نئی جہت دینے کی دعوت دیتا ہے۔ آنچل اگر محض سماجی پابندیوں، مصلحتوں اور خوف کی علامت بن کر رہ جائے تو وہ عورت کی پرواز میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لیکن جب یہی آنچل عزم، خودداری اور مزاحمت کا پرچم بن جائے تو وہ تاریخ کے رخ پر اثر انداز ہونے کی قوت حاصل کر لیتا ہے۔ عورت کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی شناخت مٹا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت کے ساتھ اپنے فیصلوں کا اختیار بھی حاصل کرے۔ وہ اپنے عقیدے، اپنے لباس، اپنے نظریے اور اپنی ترجیحات کے ساتھ سماج میں اپنا مقام متعین کر سکے۔ اصل مسئلہ آنچل کا نہیں، اس ذہنیت کا ہے جو عورت کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ اسے کب بولنا ہے، کہاں کھڑا ہونا ہے، کس کے حق میں آواز اٹھانی ہے اور کب خاموش ہو جانا ہے۔
کیفی اعظمی نے اسی احساس کو اپنی نظم میں ایک لازوال صدا بنا دیا تھا:
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
یہ محض محبوبہ کو پکارنے والے شاعر کی آواز نہیں، بلکہ ایک ایسے سماج کا خواب ہے جس میں عورت کو زندگی کی جدوجہد میں مرد کے برابر شریک سمجھا جائے۔ اسے پیچھے چھوڑ کر ترقی کے دعوے نہ کیے جائیں، بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا جائے۔ اس کے وجود کو بوجھ نہیں، طاقت تسلیم کیا جائے، اس کی آواز کو شور نہیں، سماج کے زندہ ہونے کی علامت سمجھا جائے۔ آج جب عورتوں کی خودمختاری کے دعوے کیے جاتے ہیں، جب خواتین کے احترام کے نعرے سیاسی جلسوں میں گونجتے ہیں اور جب ان کی کامیابیوں کو اقتدار کی تشہیر کا ذریعہ بنایا جاتا ہے، تب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ایک عام عورت کو بھی اختلاف کا حق حاصل ہے؟ کیا وہ طاقت ور لوگوں کے سامنے سوال اٹھا سکتی ہے؟ کیا اس کی سیاسی وابستگی، اس کا طبقہ، اس کا مذہب یا اس کی سماجی حیثیت اس کے حقِ اظہار کی راہ میں رکاوٹ بنے گی؟ اور کیا اس کے حوصلے کو اس کے نظریے سے الگ کرکے بھی سراہا جا سکتا ہے؟ اگر عورت کی بہادری ہمیں صرف اس وقت اچھی لگتی ہے جب وہ ہمارے سیاسی خیمے میں کھڑی ہو، تو ہم نے ابھی تک عورت کی آزادی کا مفہوم نہیں سمجھا۔ اگر ہم ایک عورت کی جدوجہد کو صرف اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ اس کا نظریہ ہم سے مختلف ہے، تو ہم بھی اسی تنگ نظری کا شکار ہیں جس کے خلاف ترقی پسند شعور نے آواز اٹھائی تھی۔نیہا بورا کے حوالے سے اصل سوال یہی ہے۔ ہم اس کے سیاسی مؤقف سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کے طریقۂ کار پر تنقید کر سکتے ہیں اور اس کے نظریات سے اتفاق نہ کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں؛ لیکن اگر اس کی جدوجہد میں حوصلہ، استقلال اور اپنے موقف پر کھڑے رہنے کی قوت موجود ہے تو ان انسانی اوصاف کا اعتراف کرنے میں ہمیں بخل کیوں ہونا چاہیے؟ کسی شخص کی ہمت کا اعتراف اس کے ہر سیاسی خیال کی توثیق نہیں ہوتا۔ یہ صرف اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ انسانی کردار کی بعض خوبیاں جماعتی وابستگیوں سے بڑی ہوتی ہیں۔ پریم چند کا تصورِ حسن بھی تو یہی تھا۔ انہوں نے پتھر توڑتی عورت کو اس لیے قابلِ توجہ نہیں سمجھا تھا کہ وہ کسی خاص سیاسی جماعت کی رکن تھی، بلکہ اس لیے کہ اس کی محنت اور زندگی کی سختیاں اسے حسن کے ایک نئے تصور سے وابستہ کرتی تھیں۔ اس کے چہرے پر محنت کی تھکن تھی، لیکن اسی تھکن میں زندگی کی جدوجہد کی عظمت بھی پوشیدہ تھی۔ حسن کا یہی تصور آج بھی ہماری ادبی، سماجی اور سیاسی زندگی کے لیے ایک معیار بن سکتا ہے۔ ایک مزدور عورت جب دھوپ میں کھڑی ہو کر اپنی روزی کماتی ہے، ایک طالبہ جب سماجی مخالفت کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا عزم کرتی ہے، ایک صحافی جب دباؤ کے باوجود سچ لکھتا ہے، ایک شہری جب ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور ایک عورت جب خوف کے حصار کو توڑ کر اپنے موقف پر کھڑی ہوتی ہے، تو ان سب کے اندر حسن کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور موجود ہوتی ہے۔یہ حسن آرائش گاہوں میں نہیں ملتا۔ اسے دیکھنے کے لیے ضمیر کی آنکھ کھولنی پڑتی ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے حسن کو بھی طبقاتی اور سیاسی خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ طاقت ور کا لباس ہمیں وجاہت دکھائی دیتا ہے، لیکن محنت کش کا پسینہ ہماری نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بولنے والا شخص ہمیں باوقار محسوس ہوتا ہے، لیکن سڑک پر اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والی عورت ہمیں ناگوار گزرنے لگتی ہے۔ ہم کامیابی کو عہدے اور اختیار سے ناپتے ہیں، کردار اور قربانی سے نہیں۔
ترقی پسند تحریک نے اسی پیمانے کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے ادب سے کہا تھا کہ وہ زندگی کے محروم اور نظرانداز کیے گئے انسانوں کو اپنا موضوع بنائے۔ اس نے شاعر کو یاد دلایا تھا کہ حسن کا ایک رخ اس عورت کے چہرے پر بھی روشن ہے جس کے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں، محنت کے چھالے ہیں۔ اس نے افسانہ نگار کو بتایا تھا کہ زندگی کی سب سے بڑی کہانیاں اکثر ان لوگوں کے حصے میں آتی ہیں جن کے نام تاریخ کی کتابوں میں درج نہیں ہوتے۔
آج نیہا بورا کا ذکر کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ادب کا یہ سبق ابھی پرانا نہیں ہوا۔ تاریخ کے کردار بدل جاتے ہیں، مقام بدل جاتے ہیں، جدوجہد کے طریقے بدل جاتے ہیں، لیکن انسان کی عزت، اس کی آزادی اور اس کے عزم کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ کبھی پتھر توڑتی عورت سڑک کے کنارے نظر آتی ہے، کبھی وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی اپنے حقِ تعلیم کے لیے لڑتی ہے اور کبھی جنتر منتر کے سیاسی ماحول میں اپنے وجود اور اپنے عزم کا اعلان کرتی ہے۔
یہاں ایک بات اور بھی اہم ہے۔ کسی ایک عورت کی بہادری کا جشن منانا کافی نہیں، اس سماجی ڈھانچے کو بھی دیکھنا ضروری ہے جو لاکھوں عورتوں کو روزانہ اپنی بقا کے لیے لڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ نیہا بورا کی جدوجہد اگر ہمیں متاثر کرتی ہے تو ہمیں ان بے شمار عورتوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جن کے پاس نہ سوشل میڈیا کی توجہ ہے، نہ اخبارات کی سرخیاں، نہ کسی سیاسی تحریک کی نمایاں شناخت۔ وہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں، گھروں میں برتن مانجھتی ہیں، کارخانوں میں مشقت کرتی ہیں، خاندانوں کی ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں اور اکثر اپنی پوری زندگی دوسروں کی ضرورتیں پوری کرتے ہوئے گزار دیتی ہیں۔
ان کے حصے میں داد نہیں آتی، ان کے نام پر نعرے نہیں لگتے، لیکن سماج کی عمارت انہی کے کندھوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی حسن کے نئے معیار کے قائل ہیں تو ہمیں ان عورتوں کی زندگیوں میں بھی وہ عظمت تلاش کرنا ہوگی جس کی نشان دہی پریم چند نے تقریباً ایک صدی پہلے کی تھی۔
نیہا بورا کی جدوجہد کی معنویت بھی اسی وقت پوری ہوگی جب وہ کسی ایک فرد کی تعریف تک محدود نہ رہے، بلکہ عورت کے حقِ اظہار، اس کی خودمختاری اور اس کے انسانی وقار کے وسیع تر سوالات کو سامنے لائے۔ کسی تحریک کی اصل کامیابی کسی ایک چہرے کو علامت بنا دینے میں نہیں، بلکہ اس شعور کو عام کرنے میں ہے جو ہزاروں نئے چہروں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دے۔
پریم چند نے حسن کو دیکھنے کے لیے ہماری نگاہ بدلنے کی دعوت دی تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نگاہ کے ساتھ اپنا رویہ بھی بدلیں۔ ہم عورت کو محض قابلِ رحم مخلوق، خوب صورت شے، انتخابی وعدے یا سیاسی تشہیر کا وسیلہ سمجھنا چھوڑ دیں۔ اسے ایک مکمل انسان تسلیم کریں، جس کے پاس اپنا ذہن ہے، اپنا ضمیر ہے، اپنی ترجیحات ہیں اور اپنے فیصلے کرنے کا حق ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ نیہا بورا خوب صورت ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس کے عزم میں ہمیں کون سا حسن دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کس سیاسی صف میں کھڑی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے نظریاتی اختلافات سے بلند ہو کر انسانی حوصلے کی قدر کر سکتے ہیں؟ سوال یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ میں کون سا پرچم ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس کے اندر اپنے موقف پر قائم رہنے کی وہ قوت موجود ہے جو دوسروں کو بھی خوف سے نجات پانے کا حوصلہ دے؟
اگر ہم ان سوالوں پر غور کرنے لگیں تو شاید ہمیں سمجھ میں آ جائے کہ پریم چند نے حسن کے معیار کو بدلنے کی بات کیوں کی تھی، مجاز نے آنچل کو پرچم بنانے کی آرزو کیوں ظاہر کی تھی اور کیفی اعظمی نے عورت کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت کیوں دی تھی۔
حسن وہ نہیں جو صرف نگاہ کو مسحور کرے۔ حسن وہ ہے جو مردہ ضمیروں کو بیدار کرے، جمود کو توڑے، ناانصافی کے خلاف کھڑا ہو، خوف کی زنجیریں کاٹے اور انسان کو اس کے وجود کی حرمت کا احساس دلائے۔
پتھر توڑتی ہوئی عورت کے چہرے پر پسینے کی چمک ہو یا جنتر منتر میں کھڑی نیہا بورا کی آنکھوں میں عزم کی روشنی، اصل حسن اسی وقت جنم لیتا ہے جب انسان حالات کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیتا ہے۔
اور شاید ترقی پسند تحریک کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے کہ حسن کو تلاش کرنا ہے تو صرف چہروں کو مت دیکھیے، کردار کو دیکھیے؛ صرف لباس کو مت دیکھیے، جدوجہد کو دیکھیے؛ صرف نعروں کو مت سنیے، ان کے پیچھے دھڑکتے ہوئے دل کی آواز سنیے۔ کیونکہ تاریخ کے سب سے خوب صورت چہرے اکثر وہ ہوتے ہیں جن پر زندگی کی سختیوں کے نشان ہوتے ہیں، مگر جن کی آنکھوں میں شکست قبول نہ کرنے کا عزم روشن رہتا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں