ووٹر فہرست پر الیکشن کمیشن کے کئی بڑے فیصلے
الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرست پر اہم فیصلے کیے، دہلی اور مہاراشٹر میں اعتراضات کی تاریخیں بڑھائیں، CJP نے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔
نئی دہلی: بھارتی الیکشن کمیشن کے ہفتہ کو منعقدہ اجلاس میں ووٹر فہرست سے متعلق خصوصی نظرثانی (SIR) اور انتخابی عمل کے مختلف پہلوؤں پر کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیس کمار کے علاوہ الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے شرکت کی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایسے ووٹرز جنہیں نام درج کرنے میں کسی تضاد یا دیگر وجوہات کی بنا پر نوٹس جاری کیا گیا ہے، ان کے لیے طریقہ کار میں سہولت پیدا کی گئی ہے۔ ایسے معاملات میں بوتھ لیول افسر (BLO) متعلقہ ووٹر کے گھر جاکر ضروری دستاویزات حاصل کرے گا اور انہیں ECI-Net پورٹل پر اپ لوڈ کرے گا۔ کمیشن کے مطابق عام طور پر ایسے ووٹرز کو سماعت کے لیے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کے دفتر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اجلاس میں ضلع انتخابی افسران (DEO) کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ رین بسیروں میں رہنے والے افراد، مزدوروں، غریب شہریوں اور بے گھر لوگوں کے لیے خصوصی کیمپ اور امدادی مراکز قائم کیے جائیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو شہری ووٹر بننے کی اہلیت رکھتے ہیں، وہ انتخابی فہرست میں اپنا نام شامل کرا سکیں اور کسی مستحق فرد کا نام محض سہولتوں کی کمی کے باعث فہرست سے باہر نہ رہ جائے۔
دہلی کے معاملے میں چیف الیکٹورل آفیسر کی درخواست پر دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ بڑھا کر 30 اکتوبر 2026 کر دی گئی ہے، جبکہ ان دعوؤں اور اعتراضات کے تصفیے کے لیے 30 نومبر 2026 تک کی مہلت مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 12 اکتوبر اور ان کے تصفیے کی آخری تاریخ 10 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔کمیشن کے مطابق بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خصوصی گہرائی سے ووٹر فہرست کی نظرثانی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ جن افراد کا نام کسی وجہ سے فہرست میں شامل نہیں ہو سکا یا جو پہلی مرتبہ ووٹر بننے کی اہلیت رکھتے ہیں، وہ متعلقہ ERO کے پاس درخواست دے کر اپنا نام شامل کرا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف ریاستوں میں خصوصی نام اندراج مہم بھی چلائی جائے گی۔اجلاس میں کمیشن کی داخلی کارکردگی سے متعلق بھی بعض فیصلے کیے گئے۔ طے کیا گیا کہ آئندہ کمیشن کے اجلاسوں کا ایجنڈا پہلے ہی جاری کیا جائے گا اور اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات یعنی منٹس بھی دستیاب کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ افسران کی سالانہ کارکردگی رپورٹ (APAR) مقررہ وقت پر مکمل کرنے اور بیرون ملک دوروں کے لیے الیکشن کمیشن سے پیشگی منظوری کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی معاملات میں چیف الیکشن کمشنر گیانیس کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں، وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو، کے درمیان اختلافِ رائے سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے بعد اپوزیشن کی جانب سے گیانیس کمار پر بعض فیصلے یک طرفہ انداز میں لینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
اسی معاملے کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیس کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے استعفے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دینے کا اعلان کیا تھا۔ CJP کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں استعفیٰ نہیں دیا گیا تو 2 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔





