خبرنامہ

کار کے پرخچے اڑے، وزیر کی بیٹی سمیت چار افراد جاں بحق

جھارکھنڈ کے جمشیدپور ضلع میں بدھ کی دیر رات ایک انتہائی افسوسناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں دوموہانی علاقے کے قریب ایک کار اور ٹرک کے درمیان زوردار تصادم کے نتیجے میں چار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ ٹکر کے بعد کار بری طرح تباہ ہوگئی اور اس کے کئی حصے شدید متاثر ہوئے۔مقامی اطلاعات کے مطابق کار میں سوار افراد دوموہانی کے قریب سے گزر رہے تھے کہ اسی دوران ان کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ تصادم کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کار کا ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ حادثے کے فوراً بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور آس پاس موجود افراد مدد کے لیے موقع پر پہنچنے لگے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے متاثرہ گاڑی کا جائزہ لیتے ہوئے بچاؤ کی کارروائی شروع کی۔ پولیس کے مطابق حادثے میں کار میں موجود چار افراد کی موت ہوئی ہے۔ مرنے والوں میں جھارکھنڈ کی دیہی ترقی کی وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ کی بیٹی بھی شامل ہونے کی اطلاع ہے۔
وزیر کی بیٹی کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد واقعے نے مزید توجہ حاصل کی۔ حادثے کے اصل اسباب جاننے کے لیے پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تصادم کن حالات میں ہوا اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔حادثے کی خبر پھیلنے کے بعد جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں غم کی فضا پیدا ہوگئی۔ وزیر کے اہل خانہ اور قریبی افراد نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ریاست کے صحت کے وزیر ڈاکٹر عرفان انصاری نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی تکلیف دہ واقعہ قرار دیا اور دیپیکا پانڈے سنگھ کی بیٹی کی موت پر تعزیت کی۔
طلبہ احتجاج میں بھی سرگرم رہی تھیں دیپیکا پانڈے سنگھ
دیپیکا پانڈے سنگھ حالیہ عرصے میں رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے طلبہ کے احتجاج کے دوران بھی خبروں میں رہی تھیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق انہوں نے طلبہ کے جمہوری حقوق کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور انتظامیہ سے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس یا دیگر سخت اقدامات سے گریز کرنے کی بات کہی تھی۔اسی دوران حکومت اور طلبہ نمائندوں کے درمیان بات چیت بھی ہوئی، جس میں احتجاج سے متعلق مختلف مطالبات پر گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں 17 اگست کو دیپیکا پانڈے سنگھ رانچی صدر اسپتال پہنچیں، جہاں انہوں نے طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو کا جوس پلا کر ان کی بھوک ہڑتال ختم کرائی۔ اس موقع پر صحت کے وزیر عرفان انصاری بھی موجود تھے۔لیکن احتجاج کے دوران بعض مظاہرین کی جانب سے دیپیکا پانڈے سنگھ سمیت کچھ وزرا کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے تھے۔ یہ احتجاج مبینہ لاٹھی چارج کے خلاف کیا گیا تھا۔فی الحال دوموہانی حادثے کی پولیس تحقیقات جاری ہیں اور حکام واقعے سے متعلق مزید شواہد اور معلومات جمع کر رہے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر