اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتیں مسمار کرنے کا حکم
رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر 15 دن میں ہٹانے کا حکم دیا، ورنہ انتظامیہ کارروائی کرے گی۔
اتر پردیش کے ضلع رامپور میں سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان سے وابستہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر انتظامی کارروائی کی زد میں آ گئی ہے۔ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق متعلقہ ٹرسٹ کو 15 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ خود مطلوبہ کارروائی کرے، بصورت دیگر اتھارٹی اپنی جانب سے انہدامی کارروائی عمل میں لائے گی۔
رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے زیر انتظام یونیورسٹی کیمپس میں تقریباً 82 ہزار 309.80 مربع میٹر رقبے پر ایسے تعمیراتی ڈھانچے موجود ہیں جن کے لیے ضروری منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کیمپس میں موجود 40 عمارتوں میں سے 38 عمارتیں منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر کی گئیں، جبکہ صرف دو عمارتوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مجاز اجازت کے ساتھ تعمیر ہوئی ہیں۔حکام کے مطابق اس معاملے میں گزشتہ ماہ ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی تحریری وضاحت اور اعتراضات جمع کرائے۔ متعلقہ فریق کو ذاتی سماعت کا موقع بھی فراہم کیا گیا تاکہ وہ اپنے مؤقف کی تائید میں دستاویزات پیش کر سکے۔ تاہم، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دستیاب ریکارڈ اور پیش کیے گئے ثبوت 38 عمارتوں کی قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔اسی بنیاد پر رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نائب صدر اور ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے اتر پردیش کے متعلقہ شہری منصوبہ بندی اور ترقیاتی قانون کے تحت انہدام کا حکم جاری کیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کی گئی ہے اور ٹرسٹ کو مناسب موقع بھی دیا گیا۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ 15 دن کے اندر غیر قانونی قرار دی گئی تعمیرات نہ ہٹائی گئیں تو سرکاری مشینری کے ذریعے انہدامی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب اس فیصلے پر جوہر ٹرسٹ یا یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی تفصیلی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ آئندہ دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ ٹرسٹ اس حکم کو عدالت میں چیلنج کرتا ہے یا انتظامیہ کی ہدایت کے مطابق خود کارروائی کرتا ہے۔






