خبرنامہ

ہنٹا وائرس: ایک خاموش خطرہ اور اس سے بچاؤ کی ضرورت

النور ٹائمز (ادارہ)

دنیا میں کئی ایسے وائرس موجود ہیں جو بظاہر چھوٹے مگر نتائج کے اعتبار سے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہنٹا وائرس ہے، جسے سائنسی طور پر Hantavirus کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر چوہوں اور جنگلی rodents کے ذریعے انسانوں تک پہنچتا ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اس وائرس کے بارے میں عام لوگوں میں آگاہی کم ہے، حالانکہ اس سے بچاؤ نسبتاً آسان ہے اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں کے جسمانی فضلے جیسے پیشاب، پاخانہ یا لعاب کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب یہ فضلہ خشک ہو جاتا ہے تو اس کے باریک ذرات ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں اور انسان کے سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں، پرانی عمارتوں، گوداموں اور بند کمروں میں یہ وائرس زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جہاں صفائی اور ہوا کا مناسب انتظام نہیں ہوتا۔
یہ بیماری دو اہم شکلوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ پہلی شکل پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے جسے Hantavirus Pulmonary Syndrome کہا جاتا ہے۔ اس میں مریض کو اچانک بخار، جسم میں شدید درد، تھکن اور سانس لینے میں دشواری شروع ہو جاتی ہے۔ چند دنوں میں یہ حالت بگڑ کر شدید سانس کی ناکامی تک پہنچ سکتی ہے۔ دوسری شکل گردوں کو متاثر کرتی ہے جس میں بخار، جسم پر خون کے دھبے، پیٹ درد اور گردوں کی خرابی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

ہنٹا وائرس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کی ابتدائی علامات عام فلو یا نزلہ زکام سے ملتی جلتی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اسے معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی تاخیر بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے اگر کسی فرد کو ایسے ماحول میں رہنے کے بعد جہاں چوہوں کی موجودگی ہو، بخار اور سانس کی تکلیف ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
اس وائرس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ احتیاط ہے۔ سب سے پہلے گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ چوہوں کی موجودگی کو کم کرنے کے لیے خوراک کو بند برتنوں میں محفوظ رکھنا چاہیے اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہیے۔ گھروں میں دراڑیں اور سوراخ بند کرنا بھی بہت اہم ہے تاکہ چوہے اندر داخل نہ ہو سکیں۔
صفائی کرتے وقت خاص احتیاط ضروری ہے۔ اگر کسی جگہ چوہوں کا فضلہ موجود ہو تو اسے خشک جھاڑو سے صاف کرنے کے بجائے گیلا کر کے یا جراثیم کش محلول استعمال کر کے صاف کرنا چاہیے تاکہ وائرس کے ذرات ہوا میں نہ پھیلیں۔ ماسک اور دستانے کا استعمال بھی ایک محفوظ عمل ہے۔
اس کے علاوہ عوامی آگاہی بہت ضروری ہے۔ دیہی علاقوں میں خاص طور پر لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں معلومات فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ بروقت احتیاط کر سکیں۔ صحت کے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے علاقوں میں نگرانی اور صفائی کے اقدامات کو بہتر بنائیں جہاں چوہوں کی بھرمار ہو سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہنٹا وائرس اگرچہ ایک خطرناک بیماری ہے، لیکن یہ ناقابلِ کنٹرول نہیں۔ مناسب صفائی، احتیاط اور بروقت آگاہی کے ذریعے اس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماحول کو صاف رکھیں اور چھوٹے سے خطرے کو بھی نظر انداز نہ کریں، کیونکہ بعض اوقات یہی چھوٹے خطرات بڑی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر