سپریم کورٹ نے گورنراورصدر کے اختیارات سے متعلق پرانافیصلہ بدل دیا
سپریم کورٹ نے صدر اور گورنر کی بلوں پر کارروائی کی مدت سے متعلق پہلے فیصلے کو غلط قرار دے کر واپس لے لیا۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم آئینی معاملے میں اپنا ہی سابق فیصلہ ترمیم کے ساتھ واپس لے لیا اور واضح کیا کہ ریاستوں کے معاملات میں صدرِ جمہوریہ اور ریاستی گورنرز کے کردار کے بارے میں عدالت کوئی ایسی پابند ہدایات جاری نہیں کر سکتی جو آئین کی منشا سے متصادم ہوں۔قانونی ویب سائٹوں کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس سال 8 اپریل کو دیا جانے والا وہ حکم، جس میں گورنر اور صدر کے لیے ریاستی اسمبلیوں سے منظور شدہ بلوں پر کارروائی کی ’’مقررہ مدت‘‘ طے کی گئی تھی، آئینی ڈھانچے اور اختیارات کی علیحدگی کے اصول سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایسی مدت کے گزر جانے پر ’’مفروضہ یا سمجھ لی گئی منظوری‘‘ کا تصور نافذ کرنا صدر یا گورنر کے صوابدیدی اختیارات میں براہِ راست مداخلت کے مترادف ہے، جو قابلِ قبول نہیں۔
اہم نکات
• سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین میں صدر یا گورنر کے لیے بلوں پر فیصلہ کرنے کی کوئی وقتِ مقرر نہیں، اس لیے عدالتی طور پر وقت کی پابندی مسلط نہیں کی جا سکتی۔
• اگر صدر یا گورنر مخصوص مدت میں کوئی فیصلہ نہ کریں تو ’’سمجھی ہوئی منظوری‘‘ (deemed assent) کا نظریہ لاگو نہیں ہوگا۔
• عدالت کے مطابق صدر یا گورنر کے کسی مخصوص اقدام یا عدم اقدام کو براہِ راست چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ آئینی عہدوں کے اختیارات سے جڑا معاملہ ہے۔
• البتہ اگر گورنر آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت غیر معمولی تاخیر کریں تو عدالت جائزہ لے سکتی ہے اور صرف یہ ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ ’’مناسب وقت‘‘ میں فیصلہ کریں۔ عدالت اس بات پر رائے نہیں دے سکتی کہ گورنر کیا فیصلہ کریں یا کیسے کریں۔
پس منظر
یہ رائے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 143(1) کے تحت بھیجے گئے ایک اہم آئینی سوال پر دی گئی۔ یہ آرٹیکل صدر کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پر سپریم کورٹ سے مشورہ یا وضاحتی رائے طلب کر سکیں۔یہ سوال دراصل اُس فیصلے کے پس منظر میں اٹھا تھا جس میں تمل ناڈو کی حکومت اور ریاست کے گورنر کے درمیان مختلف بلوں پر طویل تاخیر کے تنازع نے سنگین صورت اختیار کر لی تھی۔ اس سابق فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ گورنر کو ’’معقول مدت‘‘ میں فیصلہ کرنا ہو گا اور وہ آئینی خاموشی کو سیاسی یا انتظامی تعطل پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔
اب صدر کے بھیجے گئے اس سوال نے عدالت کو اپنا ہی پرانا فیصلہ نئے زاویے سے دیکھنے پر آمادہ کیا، اور عدالت نے واضح کر دیا کہ گورنر اور صدر کے صوابدیدی آئینی اختیارات پر کوئی ایسی عدالتی قید نہیں لگائی جا سکتی جس کی آئین نے خود اجازت نہ دی ہو۔





