سائنسی دنیا

زمین، زندگی اور ہماری ذمے داری

غلام علی اخضر

زمین کی حفاظت ہماری سب سے بڑی ذمے داری ہے، کیوں کہ اسی کی حیات میں انسان کی بقا پوشیدہ ہے۔ اسے سنوارنا اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے اور اسے بگاڑنا اپنی خوش حالی کو خود اپنے ہاتھوں سے ختم کرنا ہے۔ زمین کو سبز، صاف اور زرخیز رکھنا ایک محفوظ، صحت مند اور پائیدار زندگی کی ضمانت ہے، جب کہ اسے اپنی غفلت، بے احتیاطی اور غلط کارستانیوں سے بنجر بنا دینا ایک اجتماعی تباہی کو دعوت دینا ہے۔ انسان نے اپنی ترقی اور آسائش کے لیے فطرت کے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا، مگر اس کے نتائج اور اثرات کو نظر انداز کر دیا، جس کے باعث آج زمین مختلف ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو چکی ہے۔ اسی احساسِ ذمے داری کو بیدار رکھنے کے لیے ہر سال اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام 22؍ اپریل کو عالمی یومِ ارض منایا جاتا ہے تاکہ زمین کے ماحول اور وسائل کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔ اس دن کا مقصد انسانوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی اور سرگرمیاں براہِ راست زمین کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہیں۔ عالمی یومِ ارض کی ابتدا1970 میں امریکی ماہرِ ماحولیات سینیٹر گیلوڑڈ نیلسن کی قیادت میں ہوئی، جب پہلی بار لاکھوں افراد نے ماحول کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز بلند کی۔ اس کے بعد یہ دن عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اور آج دنیا بھر میں مختلف تقاریب، سیمینارز، آگاہی مہمات اور شجرکاری پروگرامز کے ذریعے اسے منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگوں کو پلاسٹک کے استعمال میں کمی، توانائی کی بچت، درخت لگانے اور ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین ہماری مشترکہ میراث ہے اور اس کی حفاظت ہر فرد کی ذمے داری ہے، کیو ں کہ ہماری چھوٹی چھوٹی کوششیں بھی مجموعی طور پر ماحول کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، آبی وسائل کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل اس دن کے مرکزی موضوعات ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو آنے والے وقت میں زمین انسان کے لیے مشکلات کا گہوارہ بن سکتی ہے۔

آج کے دور میں ہماری بے راہ روی اور غیر ذمے دارانہ طرزِ عمل کے باعث گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی سب سے بڑے ماحولیاتی چیلنجز بن چکے ہیں، جو زمین کی زندگی اور انسانی مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ زمین کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور شدید طوفان، سیلاب اور خشک سالی جیسے قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موسم اپنی فطری ترتیب کھو رہا ہے؛ بے موسم بارشیں، اچانک آندھیاں اور غیر معمولی موسمی تبدیلیاں انسانی زندگی کو غیر یقینی بنا رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں، جیسے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فوسل فیول کا بے دریغ استعمال اور جنگلات کی اندھا دھند کٹائی۔ یہ تمام عوامل فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں اضافہ کر رہے ہیں، جس سے زمین کا درجۂ حرارت مزید بڑھ رہا ہے اور قدرتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔ گلوبل وارننگ کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت، غذائی تحفظ، پانی کے وسائل اور حیوانات کی زندگی پر بھی گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، پینے کے صاف پانی کی دستیابی کم ہو رہی ہے اور مختلف اقسام کے جانور اور پودے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں یہ مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے انسانی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔ اس سنگین صور ت حال سے نمٹنے کے لیے توانائی کے محتاط استعمال، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع جیسے شمسی اور ہوائی توانائی کے فروغ، شجرکاری، پانی کے بہتر استعمال اور صنعتی آلودگی میں کمی بے حد ضروری ہے تاکہ زمین کے قدرتی توازن کو بحال رکھا جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے سماجی، تعلیمی اور حکومتی سطح پر اقدامات نہایت اہم ہیں، کیوں کہ صرف انفرادی کوششیں اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہوتیں جب تک اجتماعی شعور اور منظم حکمتِ عملی موجود نہ ہو۔ کمیونٹی سطح پر صفائی مہمات، شجرکاری پروگرام، ری سائیکلنگ کی سرگرمیاں اور آگاہی مہمات نہ صرف ماحول کو بہتر بناتی ہیں بلکہ لوگوں میں ذمے داری کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں۔ تعلیمی ادارے اس حوالے سے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جہاں بچوں اور نوجوانوں کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے، پانی اور توانائی کے محتاط استعمال اور زمین کی اہمیت کے بارے میں شعور دیا جاتا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں ذمے دار شہری بن سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتیں بھی مختلف قوانین اور منصوبوں کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے تحت پیرس معاہدہ ایک اہم عالمی اقدام ہے، جس کے ذریعے مختلف ممالک نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے اہداف مقرر کیے ہیں۔ بھارت میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ’ایئر ایکٹ ۱۹۸۱ ‘اور’واٹر ایکٹ ۱۹۷۴‘ جیسے اہم قوانین نافذ کیے گئے ہیں، جو فضائی اور آبی آلودگی کو کنٹرول کرکے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتیں ری سائیکلنگ پروگرامز، سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے اور دیگر گرین انیشیٹو بھی شروع کر رہی ہیں، جن کا مقصد ماحول کو بہتر بنانا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگر حکومت، ادارے اور عوام مل کر سنجیدگی سے کام کریں تو ایک صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کا قیام ممکن ہے، جو نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ زمین کا تقریباً 71؍ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے جب کہ صرف 29 فیصد حصہ خشکی ہے اور انسان کو اپنی تمام تر سرگرمیاں اسی محدود حصے میں انجام دینی ہوتی ہیں۔ اس محدود زمین پر بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ اور وسائل کا بے جا استعمال زمین کی زرخیزی کو متاثر کر رہا ہے۔ ہندوستان میں ایک بڑی آبادی کا انحصار زراعت پر ہے اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کیمیائی کھادوں جیسے نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم، یوریا اور دیگر مرکبات کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے، جو زمین کی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بعض اوقات معلومات کی کمی کے باعث ضرورت سے زیادہ پانی اور کھاد استعمال کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی آلودہ ہو جاتا ہے اور زمین کی قدرتی ساخت متاثر ہوتی ہے۔ ایک بار اگر زمین اپنی زرخیزی کھو دے تو اسے دوبارہ بحال ہونے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں جو اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ زمین مختلف عناصر جیسے آکسیجن، سلیکان، لوہا، میگنیشیم اور دیگر معدنیات پر مشتمل ہے اور ان کا توازن برقرار رہنا زمین کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ آج کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے اقدامات، جیسے پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پانی اور توانائی کی بچت، ری سائیکلنگ، شجرکاری اور ماحول دوست عادات کو اپنانا، مستقبل میں بڑے مثبت نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین ہماری بقا کی بنیاد ہے اور اس کی حفاظت ہی ہماری خوش حالی کی ضمانت ہے۔ اگر ہم آج اپنی ذمے داری کو سمجھ کر عملی اقدامات کریں گے تو آنے والی نسلیں ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول میں زندگی گزار سکیں گی، بصورتِ دیگر ہماری غفلت ان کے لیے مشکلات اور مسائل کا سبب بنے گی۔ یہی وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور زمین کے ساتھ ایک ذمے دار اور مہذب رویہ اختیار کریں، تاکہ یہ خوبصورت سیارہ ہمیشہ کے لیے زندگی کا گہوارہ بنا رہے۔بقول شاعر :
سر کو نہ پھینک اپنے فلک پر غرور سے
تو خاک سے بنا ہے ترا گھر زمین ہے

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سائنسی دنیا

مذہبی تناظر میں جدید انفارمشن  ٹکنا لوجی کا استعمال

ابن العائشہ صدیقی علی گڑھ مذہب اسلام اپنی آفاقی تعلیمات کے ذریعے ہر زمانے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی
سائنسی دنیا

ماحولیاتی مسائل، عوام اور سرکار

غلام علی اخضر موجودہ وقت میں ماحولیاتی مسائل کسی وبا سے کم نہیں ہیں۔ پوری دنیا اس سے نبرد آزمائی