ایرانی صدر کا خط، جنگ سے انکار مذاکرات پر زور
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے جنگ شروع کرنے سے انکار کیا، مذاکرات پر زور دیا، جب کہ ٹرمپ کے جنگ بندی دعوے پر وضاحت نہ دی گئی۔
ایران کے صدرمسعود پیزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے، جسے انہوں نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس خط میں انہوں نے اپنے ملک کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ وہ طویل عرصے سے بیرونی دباؤ، حملوں اور غیر انسانی پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔صدر پیزشکیان نے کہا کہ حالیہ حملے ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں، اور ان کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے ان حملوں کا جواب عزم اور حوصلے کے ساتھ دیا اور اپنی خودمختاری کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی نئی قیادت نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ دعویٰ کس شخصیت یا ذریعے سے سامنے آیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ بندی پر اسی وقت غور کرے گا جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی، آزاد اور محفوظ ہو، اور بصورت دیگر ایران کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر پیزشکیان نے اپنے خط میں جنگ بندی کا براہِ راست ذکر نہیں کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام کے دلوں میں امریکہ، یورپ یا خطے کے دیگر ممالک کے عوام کے خلاف کوئی نفرت نہیں پائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ تصادم کے بجائے بات چیت اور مذاکرات ہی دیرپا امن کی بنیاد ہیں۔انہوں نے ایران میں واشنگٹن کے حوالے سے عدم اعتماد کی کئی وجوہات بھی بیان کیں، جن میں غیر ملکی مداخلت، غیر انسانی پابندیاں، اور 1953 کی فوجی بغاوت شامل ہیں، جسے انہوں نے عدم اعتماد کی بنیادی وجہ قرار دیا۔صدر پیزشکیان نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حقائق کو درست تناظر میں دیکھا جائے اور عوامی سطح پر بہتر تعلقات کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ انتخاب تصادم اور مذاکرات کے درمیان، آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کرے گا اور عالمی قیادت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کے بجائے بات چیت اور مفاہمت کو ترجیح دیں۔





